المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
وہ اوقات جن میں نماز پڑھنا منع ہے
حدیث نمبر: 281
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: ثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الأَجْدَعَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ إِلا أَنْ تَكُونَ الشَّمْسُ مُرْتَفِعَةً" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد (نفل) نماز پڑھنے سے منع کیا ہے، سوائے یہ کہ سورج بلند ہو (تو پڑھنا جائز ہے)۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 281]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 1/80, 81-129, 141، سنن أبي داود: 1274، سنن النسائي: 574، السنن الكبرى للبیہقی: 2/559، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1284) امام ابن حبان رحمہ اللہ (1547) حافظ ضیاء مقدسی رحمہ اللہ (المختارة: 763, 766) نے صحیح کہا ہے، حافظ ابن العراقی رحمہ اللہ (طرح التثريب: 1/187) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ حافظ منذری رحمہ اللہ نے اس کی سند کو جید اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباري: 2/161) نے حسن کہا ہے، نیز (فتح الباري: 2/163) صحیح قوی قرار دیا ہے۔ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ (محلى: 3/31) کہتے ہیں: هَذِهِ زِيَادَةُ عَدْلٍ، لَّا يَجُوزُ تَرْكُهَا.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
وهب بن الأجدع الهمداني ← علي بن أبي طالب الهاشمي