المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
وہ مقامات جہاں پیشاب اور پاخانہ کرنے سے بچنا چاہیے
حدیث نمبر: 34
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمُخَرِّمِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ رَحِمَهُ الله، ح وَثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثَنَا مُعَاذٌ ، قَالَ: ثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْجُحْرِ" ، هَذَا حَدِيثُ إِسْحَاقَ وَزَادَ: قَالُوا لِقَتَادَةَ: مَا تَكْرَهُ مِنَ الْبَوْلِ فِي الْجُحْرِ؟ قَالَ: يُقَالُ إِنَّهَا مَسَاكِنُ الْجِنِّ.
سیدنا عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بل (سوراخ) میں پیشاب نہ کرے۔
یہ اسحاق کی روایت کے الفاظ ہیں، انہوں نے مزید بیان کیا ہے کہ لوگوں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا: بِل میں پیشاب کرنے میں کیا حرج ہے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ ان میں جنات رہتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 34]
یہ اسحاق کی روایت کے الفاظ ہیں، انہوں نے مزید بیان کیا ہے کہ لوگوں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا: بِل میں پیشاب کرنے میں کیا حرج ہے؟ انہوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ ان میں جنات رہتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 34]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 82/5، سنن أبى داود: 29، سنن النسائي: 34، اس حديث كو امام حاكم رحمہ اللہ 186/1، نے امام بخاري رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ كي شرط پر ”صحيح“ كها هے، حافظ ذهبي رحمہ اللہ نے ان كي موافقت كي هے . قتاده ”مدلس“ هيں، سماع كي تصريح نهيں كي.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
قتادة بن دعامة السدوسي ← عبد الله بن سرجس المزني