🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَإِذَا مَرَّ بِنَا الرَّكْبُ سَدَلْنَا الثَّوْبَ مِنْ خَلْفِنَا عَلَى وجُوهِنَا، وَلا يَجِيءُ بِهِ مِنْ هَهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلَ خَدَّيْهَا، فَإِذَا جَاوَزُوا نَزَعْنَاهَا، وَقَالَتْ: " تَلْبَسُ الْمُحْرِمَةُ مَا شَاءَتْ إِلا الْبُرْقُعَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم حالت احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ جب کوئی سوار ہمارے پاس سے گزرتا تو ہم اپنا کپڑا پیچھے سے اپنے چہرے پر ڈال لیتی تھیں، اور وہ کپڑا گالوں کی طرف سے نہیں آتا تھا۔ جب وہ گزر جاتے تو ہم کپڑا ہٹا لیتی تھیں۔ انہوں نے فرمایا: محرمہ عورت جو چاہے پہن سکتی ہے سوائے برقع کے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 418]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 30/6، سنن أبي داود: 1833، سنن ابن ماجه: 2935، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2691) نے صحیح کہا ہے۔ یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (454/1) نے اسے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 418 in Urdu