Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

. باب المناسك
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 410
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْحَجُّ كُلَّ عَامٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا، بَلْ حَجَّةٌ، ثُمَّ مَنْ شَاءَ أَنْ يَتَطَوَّعَ فَلْيَتَطَوَّعْ بَعْدُ، وَلَوْ قُلْتُ كُلَّ عَامٍ، كَانَ كُلَّ عَامٍ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: اللہ کے رسول! کیا حج ہر سال فرض ہے؟ فرمایا: نہیں، بلکہ (زندگی میں) ایک مرتبہ فرض ہے، پھر اس کے بعد جو نفلی حج کرنا چاہے، تو کر سکتا ہے، اگر میں کہہ دیتا کہ حج ہر سال فرض ہے، تو ہر سال فرض ہو جاتا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 410]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف والحديث صحيح: مسند الإمام أحمد: 92/1، 103، 323، مسند الطيالسي: 2269، سنن الدارقطني: 281/2، صحیح مسلم (1337) وغیرہ میں اس کے شواہد بھی ہیں، سماک بن حرب کی روایت عکرمہ سے ضعیف ہوتی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف والحديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 411
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا مِنْ مِحَفَّةٍ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: " نَعَمْ وَلَكَ أَجْرٌ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے محفہ (عورتوں کی سواری کی پالکی) سے اپنا بچہ نکال کر کہا: اللہ کے رسول! کیا اس کا حج ہو جائے گا؟ فرمایا: جی ہاں! اور اجر آپ کو ملے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 411]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1336»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 412
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَّتَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا" ، وَذُكِرَ لِي، وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّهُ وَقَّتَ لأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ.
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ، اہل نجد کے لیے قرن کو میقات مقرر کیا اور میں نے سنا نہیں، بلکہ مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 412]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1527، صحیح مسلم: 1182»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 413
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالا:" وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا" ، وَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: قَرْنُ الْمَنَازِلِ، وَلأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، قَالَ عَمْرٌو: وَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: أَلَمْلَمَ، قَالَ:" فَهُنَّ لأَهْلِهِنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ وَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ"، قَالَ عَمْرٌو: فَمِنْ أَهْلِهِ، وَقَالَ ابْنُ طَاوُسٍ: فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ، فَكَذَاكَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ، اہل نجد کے لیے قرن منازل، اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا ہے۔ عمرو کہتے ہیں: ابن طاؤس نے اسلم کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ میقات وہاں کے باشندوں کے لیے بھی ہیں اور دیگر علاقوں کے ان لوگوں کے لیے بھی، جو وہاں سے گزر کر آئیں اور جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں ان کا میقات ان کے گھر سے ہی شروع ہو گا حتی کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 413]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1529، صحیح مسلم: 1181»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 414
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے سے پہلے اور طواف (افاضہ) کرنے سے پہلے احرام کھولنے کے بعد خوشبو لگائی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 414]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1539، صحیح مسلم: 1189»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 415
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، قَالَ: أَنَا عُبَيْدَةُ ، قَالَ: أَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ (سر کے درمیان سے سینا) میں لگی ہوئی خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت احرام باندھے ہوئے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 415]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 271، صحیح مسلم: 1190»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 416
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلا نَادَى، فَقَالَ" يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ: " لا يَلْبَسُ السَّرَاوِيلَ، وَلا الْقَمِيصَ، وَلا البُرْنُسَ، وَلا الْعِمَامَةَ، وَلا ثَوْبًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ، وَلا وَرْسٌ، وَلْيُحْرِمْ أَحَدُكُمْ فِي إِزَارٍ، وَرِدَاءٍ، وَنَعْلَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا حَتَّى يَكُونَا إِلَى الْعَقِبَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بلند آواز میں پوچھا: یا رسول اللہ! محرم کون سے لباس سے اجتناب کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم شلوار، قمیص، ٹوپی (جو سر سے چپکی ہو) اور عمامہ نہیں پہن سکتا، نہ ہی وہ کپڑا جو زعفران یا ورس (ایک قسم کی گھاس جو رنگنے کے کام آتی ہے) سے رنگا گیا ہو۔ احرام میں تہبند، چادر اور جوتوں کا استعمال کیا جائے، اگر جوتے میسر نہ ہوں تو موزوں کو ایڑیوں کے نیچے تک کاٹ کر پہنا جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 416]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1842، صحیح مسلم: 1177»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 417
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: " السَّرَاوِيلُ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الإِزَارَ، وَالْخُفَّانِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ النَّعْلَيْنِ" ، فَلا أَدْرِي أَيَّ الْحَدِيثَيْنِ نَسَخَ الآخَرَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: شلوار اس کے لیے ہے جس کے پاس تہبند نہ ہو، اور موزے اس کے لیے ہیں جس کے پاس جوتے نہ ہوں۔ راوی کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں کہ ان دو روایات میں سے کون سی ناسخ ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 417]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 5404، صحیح مسلم: 1178»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 418
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ، فَإِذَا مَرَّ بِنَا الرَّكْبُ سَدَلْنَا الثَّوْبَ مِنْ خَلْفِنَا عَلَى وجُوهِنَا، وَلا يَجِيءُ بِهِ مِنْ هَهُنَا يَعْنِي مِنْ قِبَلَ خَدَّيْهَا، فَإِذَا جَاوَزُوا نَزَعْنَاهَا، وَقَالَتْ: " تَلْبَسُ الْمُحْرِمَةُ مَا شَاءَتْ إِلا الْبُرْقُعَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم حالت احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔ جب کوئی سوار ہمارے پاس سے گزرتا تو ہم اپنا کپڑا پیچھے سے اپنے چہرے پر ڈال لیتی تھیں، اور وہ کپڑا گالوں کی طرف سے نہیں آتا تھا۔ جب وہ گزر جاتے تو ہم کپڑا ہٹا لیتی تھیں۔ انہوں نے فرمایا: محرمہ عورت جو چاہے پہن سکتی ہے سوائے برقع کے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 418]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 30/6، سنن أبي داود: 1833، سنن ابن ماجه: 2935، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2691) نے صحیح کہا ہے۔ یزید بن ابی زیاد ضعیف ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ (454/1) نے اسے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 419
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: ثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنْ هِلالٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَحُجَّ، أَفَأَشْتَرِطُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَتْ: كَيْفَ أَقُولُ؟ قَالَ:" قُولِي: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ مَحِلِّي مِنَ الأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي" .
سیدہ ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: یا رسول اللہ! میں حج کرنا چاہتی ہوں، کیا میں شرط رکھ سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! انہوں نے پوچھا: پھر میں کیا کہوں؟ فرمایا: یوں کہو: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ مَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ حَبَسْتَنِي» (اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، جس جگہ تو مجھے روک لے، میں وہیں احرام کھول دوں گی)۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 419]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الإمام أحمد: 360/6، سنن أبي داود: 1776، سنن النسائي: 2767، سنن الترمذي: 941، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے اور امام مسلم رحمہ اللہ (1208) نے بھی روایت کیا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں