الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 438
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ أبي عَمَّارٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ الضَّبُعِ، فَقَالَ: " كُلْهَا، قَالَ: قُلْتُ: آكُلُهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، كُلْهَا بِأَمْرِي، قُلْتُ: صَيْدٌ هِيَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ" .
عبدالرحمن بن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے بجھو (ایک قسم کا جانور) کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: اسے کھاؤ۔ میں نے کہا: کیا میں اسے کھاؤں؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اسے کھاؤ۔ میں نے کہا: کیا یہ شکار ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 438]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 297/3، 318، 322، سنن أبي داود: 3801، سنن النسائي: 2839، سنن الترمذي: 851، سنن ابن ماجه: 3236، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2626) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3965) نے اسے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن عبد الله القس ← جابر بن عبد الله الأنصاري