المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 447
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، أَخْبَرَهُ أَنْ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْتَنِي أَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَنْزِلُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ ظُلِّلَ بِهِ عَلَيْهِ مَعَهُ فِيهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ مِنْهُمْ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟" فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ سَكَتَ، فَجَاءَهُ الْوَحْي فَأَشَارَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِيَدِهِ إِلَى يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ تَعَالَ، قَالَ: فَجَاءَ يَعْلَى، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا؟ فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ فَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْتَزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ مَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ" .
سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے: کاش! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتے دیکھ سکتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے اور آپ پر ایک کپڑے سے سایہ کیا گیا تھا، آپ کے ساتھ چند صحابہ بشمول سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ ایک شخص آیا جس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور اس نے خوشبو بھی لگائی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس شخص کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے جو خوشبو لگانے کے بعد عمرہ کا احرام باندھ لے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف لمحہ بھر دیکھا اور خاموش رہے۔ پھر آپ پر وحی نازل ہوئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ بن امیہ کو ہاتھ سے آنے کا اشارہ کیا۔ یعلیٰ آئے اور اپنا سر (کپڑے کے اندر) داخل کیا، تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا اور آپ خراٹے لے رہے تھے۔ پھر وحی کی کیفیت دور ہوئی، تو آپ نے فرمایا: وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی عمرہ کے متعلق پوچھا تھا؟ اس شخص کو تلاش کر کے لایا گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خوشبو کو تین مرتبہ دھو ڈالو اور جبہ اتار دو، پھر عمرہ میں وہی کرو جو تم حج میں کرتے ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب المناسك/حدیث: 447]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1789، صحیح مسلم: 1180»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 447 in Urdu
صفوان بن يعلى التميمي ← يعلى بن منية التميمي