المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
جنازوں کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 545
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ" سَمِعْتُ نَافِعًا يَزْعُمُ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا صَلَّى عَلَى تِسْعِ جَنَائِزَ جَمِيعًا، جَعَلَ الرِّجَالَ يَلُونَ الإِمَامَ، وَالنِّسَاءَ يَلُونَ الْقِبْلَةَ، فَصَفَّهُمْ صَفًّا، وَوُضِعَتْ جَنَازَةُ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ امْرَأَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَابْنٍ لَهَا يُقَالُ لَهُ زَيْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَصَفَّا جَمِيعًا، وَالإِمَامُ يَوْمَئِذٍ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ، وَفِي النَّاسِ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ، وَأَبُو قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَوُضِعَ الْغُلامُ مِمَّا يَلِي الإِمَامَ، فَقَالَ رَجُلٌ: فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ، فَنَظَرْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ فَقَالُوا: هِيَ السُّنَّةُ" .
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نو (9) جنازوں کی نماز جنازہ اکٹھی ادا کی، مردوں کو امام کی طرف اور عورتوں کو قبلہ کی طرف رکھا، لوگوں کی صفیں بنوائیں۔ (اسی طرح) سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بیوی اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیٹی، سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا اور ان کے بیٹے زید رضی اللہ عنہ کا جنازہ رکھا گیا اور دونوں پر اکٹھی صفیں بنائی گئیں، اس دن امامت کے فرائض سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے سرانجام دیے، (جنازہ پڑھنے والے) لوگوں میں سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابو ہریرہ، سیدنا ابو سعید، اور سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔ بچے کو امام کی جانب رکھا گیا۔ ایک آدمی (عمار مولی حارث) کہتا ہے: میں نے اسے غلط قرار دیتے ہوئے عبداللہ بن عباس، ابو ہریرہ، ابو سعید اور ابو قتادہ رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھ کر کہا: ”یہ کیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ سنت ہے۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 545]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن النسائي: 1980، سنن الدارقطني: 79/2، سنن الدارقطني: 80،79/2، السنن الكبرى للبيهقي: 33/4، اس کی سند کو حافظ نووی رحمہ اللہ (المجموع شرح المہذب: 224/5) نے حسن اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (التلخیص الحبیر: 146/4) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 545 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي