یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
جنازوں کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 548
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ ، قَالَ: ثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَضَعْتُمْ مَوْتَاكُمْ فِي قُبُورِهِمْ، فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آپ اپنے فوت شدگان کو ان کی قبروں میں رکھیں، تو یہ دعا پڑھیں: بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ (اللہ کے نام پر اور اللہ کے رسول کی شریعت پر اسے قبر میں رکھ رہے ہیں)۔“ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الجنائز/حدیث: 548]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح وللحديث شواهد صحيحة: مسند الإمام أحمد: 27/2، سنن أبي داود: 3213، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3110) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (366/1) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ ہمام کی متابعت شعبہ نے کر رکھی ہے، شعبہ قتادہ سے بیان کریں، تو تدلیس کا اعتراض رفع ہو جاتا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح وللحديث شواهد صحيحة
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 548 in Urdu
بكر بن قيس الناجي ← عبد الله بن عمر العدوي