🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حقِ شفعہ کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شِرْكٍ لَمْ يُقْسَمْ رُبُعُهُ، أَوْ حَائِط لا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، فَإِنْ بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس مشترکہ چیز میں شفعہ کا حق رکھا ہے، جو تقسیم نہ ہوئی ہو، خواہ مکان ہو یا باغ ہو، اپنے ساجھی کو اطلاع دیے بغیر اسے بیچنا مالک کے لیے جائز نہیں ہے۔ وہ (ساجھی) چاہے گا، تو خرید لے گا، چاہے گا، تو چھوڑ دے گا۔ اگر مالک ساجھی کو بتائے بغیر فروخت کر دے، تو ساجھی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 642]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1608»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد
Newابن جريج المكي ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن إدريس الأودي، أبو محمد
Newعبد الله بن إدريس الأودي ← ابن جريج المكي
ثقة حجة
👤←👥علي بن خشرم المروزي، أبو الحسن
Newعلي بن خشرم المروزي ← عبد الله بن إدريس الأودي
ثقة
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 642 in Urdu