المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حقِ شفعہ کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شِرْكٍ لَمْ يُقْسَمْ رُبُعُهُ، أَوْ حَائِط لا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، فَإِنْ بَاعَ وَلَمْ يُؤْذِنْهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس مشترکہ چیز میں شفعہ کا حق رکھا ہے، جو تقسیم نہ ہوئی ہو، خواہ مکان ہو یا باغ ہو، اپنے ساجھی کو اطلاع دیے بغیر اسے بیچنا مالک کے لیے جائز نہیں ہے۔ وہ (ساجھی) چاہے گا، تو خرید لے گا، چاہے گا، تو چھوڑ دے گا۔ اگر مالک ساجھی کو بتائے بغیر فروخت کر دے، تو ساجھی اس کا زیادہ حقدار ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب البيوع والتجارات/حدیث: 642]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1608»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 642 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري