المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
مشروبات (پینے کی چیزوں) کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 865
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِيِّ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُجَيْحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَأَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ، قَالا: اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَأَتَاهُ دِهْقَانُ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَحَذَفَهُ، ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِمْ فِيمَا صَنَعَ، فَقَالَ: إِنِّي قَدْ نُهِيتُهُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَلا الْحَرِيرَ، فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَنَا فِي الآخِرَةِ" .
ابن ابی لیلی اور ابو فروہ دونوں عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا، تو دہقان (گاؤں کا چوہدری) چاندی کے برتن میں پانی لے آیا، آپ نے اسے گرا دیا، پھر اس پر ان لوگوں سے معذرت کرتے ہوئے فرمایا: مجھے اس سے منع کر دیا گیا تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیو اور نہ ہی دیباج و حریر (ریشم کے کپڑے پہنو، کیونکہ دنیا میں یہ ان (کافروں) کے لیے ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 865]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 5837، صحیح مسلم: 2067»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
عبد الله بن عكيم الجهني ← حذيفة بن اليمان العبسي