الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
مشروبات (پینے کی چیزوں) کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 868
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أمَّهُ تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَقِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ قَائِمًا، قَالَتْ: فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقَطَعْتُهُ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی والدہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور آپ نے لٹکے ہوئے مشکیزے کے منہ سے کھڑے ہو کر پانی پیا۔ کہتی ہیں: میں نے کھڑے ہو کر اس (کے منہ) کو کاٹ لیا (اور محفوظ کر لیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 868]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 431/6، شمائل الترمذي: 215»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
البراء بن زيد البصري ← أنس بن مالك الأنصاري