علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
کھانوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 887
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَبَنِ الْجَلالَةِ، وَعَنِ الْمُجَثَّمَةِ، وَعَنِ الشُّرْبِ مِنْ فِي السِّقَاءِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جلالہ (نجاست خور جانور) کا دودھ پینے، مجثمہ (جانور کو باندھ کر تیراندازی کے ذریعے قتل کرنے) اور مشکیزہ کے منہ سے (منہ لگا کر) پینے سے منع کیا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 887]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 226/1، سنن أبي داود: 3786، سنن النسائي: 4453، سنن الترمذي: 1825، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2552) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5399) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (102/2، 103) نے صحيح الإسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ المعجم الکبیر للطبرانی (349/11) میں اس کا بسندِ صحیح شاہد بھی ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 887 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي