المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
23. باب ما جاء في النذور
نذروں (منتوں) کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 938
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: ثني وُهَيْبٌ ، قَالَ: ثنا أَيُّوبُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي إِذْ بِرَجُلٍ قَائِمٍ فِي الشَّمْسِ فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقَالُوا: هَذَا أَبُو إِسْرَائِيلَ، نَذَرَ أَنْ يَقُومَ وَلا يَقْعُدَ، وَلا يَسْتَظِلَّ، وَلا يَتَكَلَّمَ وَيَصُومَ، فَقَالَ: " مُرُوهُ فَلْيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَقْعُدْ وَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دھوپ میں کھڑے دیکھا، تو اس کے متعلق (لوگوں سے) پوچھا: انہوں نے بتایا: یہ ابو اسرائیل ہیں، انہوں نے نذر مانی ہے کہ وہ دھوپ میں کھڑے رہیں گے، نہ بیٹھیں گے، نہ سائے میں جائیں گے، نہ کلام کریں گے اور روزہ رکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کہیں کہ کلام کریں، سائے میں آجائیں، بیٹھ جائیں اور روزہ پورا کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 938]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6704۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 938 in Urdu
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي