مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
82. من يفطر يوما من رمضان
کوئی شخص رمضان کا کوئی روزہ توڑ دے
ترقیم عوامۃ: 12707 ترقیم الشثری: -- 12980
١٢٩٨٠ - حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن حميد بن (عبد) (١) الرحمن عن ابي هريرة قال: اتي رجل النبي ﷺ فقال: هلكت (فقال) (٢) :"وما اهلكك؟" قال: وقعت على امراتي في رمضان، فقال النبي ﷺ:"اعتق رقبة"، فقال: لا اجدها فقال:" (صم) (٣) شهرين متتابعين"، قال: لا اقوى قال:"فاطعم ستين مسكينا" قال: لا اجد فقال:"اجلس"، فجلس فبينما هو كذلك إذ اتي بعرق فيه تمر، فقال له النبي ﷺ:"اذهب فتصدق به"، فقال: يا رسول الله والذي بعثك بالحق ما بين لابتيها اهل بيت احوج إليه منا، قال: فضحك النبي ﷺ حتى بدت انيابه ثم قال:"انطلق فاطعمه عيالك" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ساقطة من: [ن].
(٢) في [جـ، ز]: (قال).
(٣) في [ب، ن]: (فصم).
(٤) صحيح، أخرجه البخاري (٦٧٠٩)، ومسلم (١١١١).
حدثنا ابن عيينة ، عن الزهري ، عن حميد بن عبد الرحمن ، عن ابي هريرة ، قال: اتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: هلكت، فقال:" وما اهلكك؟" قال: وقعت على امراتي في رمضان , فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" اعتق رقبة"، فقال: لا اجدها، فقال:" فصم شهرين متتابعين"، قال: لا اقوى، قال:" فاطعم ستين مسكينا"، قال: لا اجد، فقال:" اجلس" فجلس، فبينما هو كذلك إذ اتي بعرق فيه تمر، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم:" اذهب فتصدق به"، فقال: يا رسول الله والذي بعثك بالحق ما بين لابتيها اهل بيت احوج إليه منا، قال: فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت انيابه ثم قال:" انطلق فاطعمه عيالك"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں ھلاک ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کس نے تجھے ہلاک کردیا؟ اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے شرعی ملاقات کرلی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غلام آزاد کر، اس نے عرض کیا میں غلام نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دو مہینوں کے لگاتار روزے رکھ لے، اس نے عرض کیا میں اس کی طاقت نہیں رکھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا، اس نے عرض کیا میں وہ بھی نہیں پاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جا، وہ بیٹھ گیا اسی دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کچھ کھجوریں آئیں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اس کو لے جا اور جا کر صدقہ کر دے، اس نے عرض اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے مدینہ کی دونوں گھاٹیوں کے درمیان کوئی گھر ایسا نہیں جو ہم سے زیادہ ضرورت مند ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ سن کر اتنا مسکرائے کہ آپ کے دانت مبارک ظاہر ہوگئے پھر فرمایا: یہ لے کر اپنے عیال کو کھلا دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الأيمان والنذور والكفارات/حدیث: 12980]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12980، ترقيم محمد عوامة 12707)
1 .....
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 12980 in Urdu