الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
32. باب ذكر التكبير ورفع اليدين عند الافتتاح والركوع والرفع منه وقدر ذلك واختلاف الروايات
باب: تکبیر تحریمہ، نماز کے آغاز میں، رکوع میں جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے، رفع یدین کرنا، اس کی مقدار اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
ترقیم العلمیہ : 1095 ترقیم الرسالہ : -- 1110
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى ، قَالا: نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ يُكَبِّرُ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ فَعَلَ مثل ذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَعَلَ مثل ذَلِكَ، وَلا يَفْعَلُهُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ وہ دونوں آپ کے کندھوں کے برابر آ جاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں جانے لگتے تو ایسا ہی کرتے، پھر جب رکوع سے سر اٹھاتے تو ایسا ہی کرتے، البتہ جب آپ سجدے سے سر اٹھاتے تھے اس وقت ایسا نہیں کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1110]
ترقیم العلمیہ: 1095
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 735، 736، 738، 739، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 390، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 245، 250، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 456، 583، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 875، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 721، 722، 741، 742، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 255، 256، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 858، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1110، 1111، 1112، 1113، 1114، 1115، 1116، 1117، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 626، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4628»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي