سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
94. باب الحث لجار المسجد على الصلاة فيه إلا من عذر
باب: مسجد کے پڑوس میں (یعنی قریب) رہنے والے شخص کو اس بات کی ترغیب دینا کہ وہ مسجد میں نماز ادا کرے، البتہ اگر کوئی عذر ہو تو (حکم مختلف ہے)۔
ترقیم العلمیہ : 1535 ترقیم الرسالہ : -- 1552
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، ثنا أَبُو السُّكَيْنِ الطَّائِيُّ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا جُنَيْدُ بْنُ حَكِيمٍ، ثنا أَبُو السُّكَيْنِ الطَّائِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِكِّينٍ الشَّقَرِيُّ الْمُؤَذِّنُ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُكَيْرٍ الْغَنَوِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: فَقَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا فِي الصَّلاةِ، فَقَالَ:" مَا خَلَّفَكُمْ عَنِ الصَّلاةِ؟"، قَالُوا: لِحَاءٌ كَانَ بَيْنَنَا، فَقَالَ:" لا صَلاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلا فِي الْمَسْجِدِ" . هَذَا لَفْظُ ابْنِ مَخْلَدٍ، وَقَالَ أَبُو حَامِدٍ:" لا صَلاةَ لِمَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ ثُمَّ لَمْ يَأْتِ إِلا مِنْ عِلَّةٍ".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز (باجماعت) کے دوران کچھ لوگوں کو غیر موجود پایا، تو دریافت کیا: ”وہ لوگ نماز میں کیوں شریک نہیں ہوئے؟“ تو لوگوں نے بتایا: انہیں کچھ کام تھا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”مسجد کے پڑوس میں رہنے والے کی نماز صرف مسجد میں ہوتی ہے۔“ روایت کے یہ الفاظ ابن مخلد کے ہیں، جبکہ ابوحامد نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”جو شخص اذان سنے اور (مسجد میں) نہ آئے، اس کی نماز نہیں ہوتی، البتہ اگر کوئی علت (یعنی عذر) ہو، تو (حکم مختلف ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1552]
ترقیم العلمیہ: 1535
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1552، وقال ابن حجر: ضعيف، فتح الباري شرح صحيح البخاري: 519/1»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1552 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري