🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب ما جاء فى صيام التطوع والخروج منه قبل تمامه
باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2195 ترقیم الرسالہ : -- 2224
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا شُعْبَةُ ، عنْ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ سَقَانِي فَشَرِبْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ، فَإِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ" . قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أُمِّ هَانِئٍ؟ قَالَ: لا حَدَّثَنَاهُ أَهْلُنَا، وَأَبُو صَالِحٍ. قَالَ شُعْبَةُ: وَكُنْتُ أَسْمَعُ سِمَاكًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنَا جَعْدَةَ، فَلَقِيتُ أَفْضَلَهُمَا، فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ.
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مشروب لایا گیا، آپ نے اسے نوش فرمایا اور مجھے پینے کے لیے دیا، تو میں نے بھی پی لیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے تو روزہ رکھا ہوا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نفلی روزہ رکھنے والا شخص اپنی مرضی کے بارے میں (امین) ہوتا ہے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ کہے: امیر ہوتا ہے، یعنی اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے)، یعنی اگر چاہے، تو روزہ برقرار رکھے اور اگر چاہے، تو توڑے۔ شعبہ بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: آپ نے یہ روایت سیدہ ام ہانی سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں! یہ روایت ہمارے گھر والوں نے اور ابوصالح نے بیان کی ہے۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سماک سے سنا، وہ فرماتے ہیں: میں نے جعدہ کے صاحبزادوں میں سے زیادہ فضیلت والے شخص سے ملاقات کی، تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصيام/حدیث: 2224]
ترقیم العلمیہ: 2195
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1605، 1606، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3288، 3289، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2456، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 731، 732، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1776، 1777، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2222، 2223، 2224، 2225، 2226، 2227، 2228، 2229، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27534»
«قال النسائي: لم يسمعه جعدة من أم هانئ وتارة عن هارون، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 734)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥فاختة بنت أبي طالب الهاشمية، أم هانئصحابية
👤←👥جعدة المخزومي
Newجعدة المخزومي ← فاختة بنت أبي طالب الهاشمية
ضعيف الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← جعدة المخزومي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥أبو داود الطيالسي، أبو داود
Newأبو داود الطيالسي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة حافظ غلط في أحاديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← أبو داود الطيالسي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن يحيى البغدادي، أبو محمد
Newمحمد بن يحيى البغدادي ← محمد بن بشار العبدي
ثقة ثبت حافظ فقيه واسع الرحلة