🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ قَبْلَ تَمَامِهِ
باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2193 ترقیم الرسالہ : -- 2222
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَهِيَ جَدَّتُهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَنِي، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الصَّائِمَ الْمُتَطَوِّعَ أَمِيرٌ أَوْ أَمِينُ نَفْسِهِ، فَإِنْ شِئْتِ فَصُومِي وَإِنْ شِئْتِ فَأَفْطِرِي" .
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، آپ کے لیے ایک برتن بڑھایا گیا، تو آپ نے اس میں سے پیا، پھر وہ برتن میری طرف بڑھا دیا، میں نے عرض کی: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نفلی روزہ رکھنے والا شخص اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں: اپنی ذات کا امین ہوتا ہے)، اگر تم چاہو، تو روزہ رکھ لو، اگر چاہو، تو یہ کھا پی لو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2222]
ترقیم العلمیہ: 2193
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8084، 8085، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2220، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9543»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2194 ترقیم الرسالہ : -- 2223
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، إِمْلاءً، ثنا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ ابْنُ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَشَرِبْتُ، ثُمَّ قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ لَهَا:" أَكُنْتِ تَقْضِينَ عَنْكِ شَيْئًا؟"، قَالَتْ: لا، قَالَ:" فَلا يَضُرُّكِ" . اخْتُلِفَ عَنْ سِمَاكٍ.
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشروب لایا گیا، آپ نے اسے پیا، پھر میری طرف بڑھا دیا، پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں نے روزہ رکھا ہوا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے کوئی قضاء روزہ رکھا تھا؟ انہوں نے عرض کی: نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے۔ سماک نامی راوی سے نقل کرنے میں اس روایت کے الفاظ میں اختلاف کیا گیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2223]
ترقیم العلمیہ: 2194
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1605، 1606، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3288، 3289، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2456، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 731، 732، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1776، 1777، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2222، 2223، 2224، 2225، 2226، 2227، 2228، 2229، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27534»
«قال النسائي: لم يسمعه جعدة من أم هانئ وتارة عن هارون، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 734)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2195 ترقیم الرسالہ : -- 2224
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا شُعْبَةُ ، عنْ جَعْدَةَ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ سَقَانِي فَشَرِبْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ، فَإِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ" . قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ أُمِّ هَانِئٍ؟ قَالَ: لا حَدَّثَنَاهُ أَهْلُنَا، وَأَبُو صَالِحٍ. قَالَ شُعْبَةُ: وَكُنْتُ أَسْمَعُ سِمَاكًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنَا جَعْدَةَ، فَلَقِيتُ أَفْضَلَهُمَا، فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ.
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مشروب لایا گیا، آپ نے اسے نوش فرمایا اور مجھے پینے کے لیے دیا، تو میں نے بھی پی لیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے تو روزہ رکھا ہوا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نفلی روزہ رکھنے والا شخص اپنی مرضی کے بارے میں (امین) ہوتا ہے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ کہے: امیر ہوتا ہے، یعنی اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے)، یعنی اگر چاہے، تو روزہ برقرار رکھے اور اگر چاہے، تو توڑے۔ شعبہ بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: آپ نے یہ روایت سیدہ ام ہانی سے سنی ہے؟ تو انہوں نے کہا: نہیں! یہ روایت ہمارے گھر والوں نے اور ابوصالح نے بیان کی ہے۔ شعبہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سماک سے سنا، وہ فرماتے ہیں: میں نے جعدہ کے صاحبزادوں میں سے زیادہ فضیلت والے شخص سے ملاقات کی، تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2224]
ترقیم العلمیہ: 2195
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1605، 1606، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3288، 3289، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2456، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 731، 732، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1776، 1777، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2222، 2223، 2224، 2225، 2226، 2227، 2228، 2229، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27534»
«قال النسائي: لم يسمعه جعدة من أم هانئ وتارة عن هارون، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 734)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2196 ترقیم الرسالہ : -- 2225
حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ ، ثنا أَبُو مُوسَى ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا شُعْبَةُ ، بِهَذَا وَقَالَ فِيهِ حَدَّثَنَا أَهْلُنَا، وأَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ . قَالَ شُعْبَةُ: وَكَانَ سِمَاكٌ يَقُولُ: حَدَّثَنَا ابْنَا أُمِّ هَانِئٍ، فَرَوَيْتُهُ أَنَا عَنْ أَفْضَلِهِمَا، وَصَلَ إِسْنَادَهُ أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔ شعبہ بیان کرتے ہیں: سماک یہ فرمایا کرتے تھے کہ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے دو صاحبزادوں نے یہ حدیث سنائی ہے، اور میں نے اس حدیث کو ان دونوں میں سے زیادہ فضیلت والے صاحب سے نقل کیا ہے۔ امام ابوداؤد نے اس روایت کو شعبہ کے حوالے سے موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2225]
ترقیم العلمیہ: 2196
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1605، 1606، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3288، 3289، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2456، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 731، 732، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1776، 1777، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2222، 2223، 2224، 2225، 2226، 2227، 2228، 2229، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27534»
«قال النسائي: لم يسمعه جعدة من أم هانئ وتارة عن هارون، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 734)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2197 ترقیم الرسالہ : -- 2226
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ هَانِئٍ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ شَرَابًا فَأَعْطَاهَا فَضْلَهُ فَشَرِبَتْهُ، فَقَالَتِ: اسْتَغْفِرْ لِي، إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً" . مثل قَوْلِ أَبِي عَوَانَةَ، قَوْلُهُ: يَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ، وَهْمٌ مِنَ الْوَلِيدِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروب پیا اور اپنا بچا ہوا مشروب سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کو عطا کیا، تو سیدہ ام ہانی نے بھی اسے پی لیا، پھر انہوں نے عرض کی: میرے لیے دعائے مغفرت کریں، کیونکہ میں نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ ابوعوانہ نامی راوی کی نقل کردہ روایت میں ایسے الفاظ ہیں: راوی کا یہ کہنا کہ یہ روایت یحییٰ بن جعدہ سے منقول ہے، یہ ولید نامی راوی کا وہم ہے اور یہ راوی ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2226]
ترقیم العلمیہ: 2197
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1605، 1606، والنسائی فى ((الكبریٰ)) برقم: 3288، 3289، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2456، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 731، 732، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1776، 1777، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2222، 2223، 2224، 2225، 2226، 2227، 2228، 2229، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27534»
«قال النسائي: اختلف على سماك فيه وسماك ليس يعتمد عليه إذا انفرد بالحديث، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 734)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2198 ترقیم الرسالہ : -- 2227
حَدَّثَنَا أَبُو شَيْبَةَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا أَبُو مُوسَى ، ثنا الْوَلِيدُ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ هَارُونَ ، عَنْ جَدَّتِهِ ، أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا صَائِمَةٌ فَنَاوَلَنِي فَضْلَ شَرَابٍ فَشَرِبْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ، قَالَ:" إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَصُومِي يَوْمًا مَكَانَهُ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِيهِ، وَإِنْ شِئْتِ فَلا تَقْضِهِ" . رَوَاهُ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ.
ہارون اپنی دادی (سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا) سے یہ بات نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے روزہ رکھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشروب کا بچا ہوا میری طرف بڑھایا، تو میں نے اسے پی لیا، پھر میں نے عرض کی: میں نے تو روزہ رکھا ہوا تھا اور مجھے یہ بات بھی پسند نہیں تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے کو واپس کروں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ رمضان کی قضاء کا روزہ تھا، تو تم اس کی جگہ ایک دن روزہ رکھ لینا اور اگر نفلی روزہ تھا، تو اگر تم چاہو، تو اس کی قضاء کر لینا، اگر چاہو، تو قضاء نہ کرنا۔ اس روایت کو حاتم بن ابوصغیرہ نے سماک کے حوالے سے، ابوصالح کے حوالے سے، سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2227]
ترقیم العلمیہ: 2198
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1605، 1606، والنسائی فى ((الكبریٰ)) برقم: 3288، 3289، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2456، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 731، 732، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1776، 1777، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2222، 2223، 2224، 2225، 2226، 2227، 2228، 2229، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27534»
«قال النسائي: اختلف على سماك فيه وسماك ليس يعتمد عليه إذا انفرد بالحديث، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 734)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2199 ترقیم الرسالہ : -- 2228
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ الْخَاقَانِيُّ ، ثنا أَبُو يُونُسَ يَعْنِي حَاتِمَ بْنَ أَبِي صَغِيرَةَ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُتَطَوِّعُ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ" .
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: نفلی روزہ رکھنے والے کو اختیار ہوتا ہے، وہ چاہے، تو روزہ برقرار رکھے، اگر چاہے، تو توڑ دے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2228]
ترقیم العلمیہ: 2199
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1605، 1606، والنسائی فى ((الكبریٰ)) برقم: 3288، 3289، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2456، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 731، 732، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1776، 1777، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2222، 2223، 2224، 2225، 2226، 2227، 2228، 2229، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27534»
«قال النسائي: اختلف على سماك فيه وسماك ليس يعتمد عليه إذا انفرد بالحديث، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 734)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2200 ترقیم الرسالہ : -- 2229
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، ثنا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِينُ أَوْ أَمِيرُ نَفْسِهِ، إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ" . اخْتُلِفَ عَنْ سِمَاكٍ فِيهِ، وَإِنَّمَا سَمِعَهُ سِمَاكٌ مِنِ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: نفلی روزہ رکھنے والا شخص اپنی ذات کے بارے میں امین (راوی کو شک ہے: امیر، یعنی وہ اپنی مرضی کا مالک ہوتا ہے) چاہے، تو روزہ رکھ لے، اگر چاہے، تو توڑ دے۔ اس بارے میں سماک سے نقل کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے۔ سماک نے اس حدیث کو سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے سے سنا ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2229]
ترقیم العلمیہ: 2200
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1605، 1606، والنسائی فى ((الكبریٰ)) برقم: 3288، 3289، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2456، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 731، 732، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1776، 1777، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2222، 2223، 2224، 2225، 2226، 2227، 2228، 2229، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27534»
«قال النسائي: اختلف على سماك فيه وسماك ليس يعتمد عليه إذا انفرد بالحديث، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (5 / 734)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2201 ترقیم الرسالہ : -- 2230
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ " أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يَرَى بِإِفْطَارِ الْمُتَطَوِّعِ بَأْسًا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ نفلی روزہ توڑنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2230]
ترقیم العلمیہ: 2201
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8444، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2230، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7771»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2202 ترقیم الرسالہ : -- 2231
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ، فَيَقُولُ لَنَا:" أَعِنْدَكُمْ شَيْءٌ أَتَاكُمْ شَيْءٌ؟"، قَالَتْ: فَنَقُولُ: أَوَلَمْ تُصْبِحْ صَائِمًا، فَيَقُولُ:" بَلَى، وَلَكِنْ لا بَأْسَ أَنْ أُفْطِرَ مَا لَمْ يَكُنْ نَذْرًا أَوْ قَضَاءَ رَمَضَانَ" . مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ الْعَرْزَمِيُّ، ضَعِيفُ الْحَدِيثِ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت روزہ رکھنے کا ارادہ کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے دریافت کرتے: کیا تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز موجود ہے، کوئی (کھانے کی چیز) تمہارے پاس آئی؟ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ہم لوگ عرض کرتے: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح روزے کی نیت نہیں کی تھی؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ہاں! لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کہ میں روزہ توڑ دوں، جبکہ وہ نذر کا نہ ہو، رمضان کا نہ ہو۔ محمد بن عبیداللہ نامی راوی عرزمی ہے اور یہ راوی ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2231]
ترقیم العلمیہ: 2202
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2231، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 969»
«قال الدارقطني: محمد بن عبيد الله هو العرزمي، ضعيف الحديث الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2231»
«‏‏‏‏وله شاهد من حديث عائشة بنت أبي بكر الصديق، أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1154، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 4563»

الحكم على الحديث: [إسناده ضعيف ولکن عند الشواھد الحدیث صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں