الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
23. ما جاء فى شرب ماء زمزم
باب: زمزم سے پانی پینے کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2699 ترقیم الرسالہ : -- 2736
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا أَبُو زِيَادٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ فَقَالَ شَرِبْتُ: مِنْ زَمْزَمَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَشَرِبْتَ مِنْهَا كَمَا يَنْبَغِي؟ قَالَ: وَكَيْفَ ذَاكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: إِذَا شَرِبْتَ مِنْهَا فَاسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ، وَتَنَفَّسَ ثَلاثًا وَتَضَلَّعْ مِنْهَا، فَإِذَا فَرَغْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " آيَةٌ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ أَنَّهُمْ لا يَتَضَلَّعُونَ مِنْ زَمْزَمَ" .
عبداللہ بن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا: ”تم کہاں سے آئے ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میں آب زم زم پی کر آ رہا ہوں۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا: ”کیا تم نے اسے اسی طرح پیا ہے، جیسے پینا چاہیے تھا؟“ اس نے دریافت کیا: ”اے سیدنا ابن عباس! وہ کیسے (پیا جاتا ہے)؟“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس نے فرمایا: ”جب تم اسے پینا ہو، تو قبلہ کی طرف رخ کرو اور اللہ کا نام لو، اور پھر تین سانسوں میں پیو اور زیادہ مقدار میں پیو، جب تم اسے پی لے لو، تو اللہ کی حمد بیان کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ہمارے اور منافقین کے درمیان بنیادی فرق ہے، وہ (منافقین) زم زم زیادہ مقدار میں نہیں پیتے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحج/حدیث: 2736]
ترقیم العلمیہ: 2699
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 94، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1744، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3061، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9758، 9759، 9760، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2736، 2737، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 9110، 9111، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24653، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 10763، 11246»
الرواة الحديث:
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي