سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. باب الصلح
باب: صلح کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2866 ترقیم الرسالہ : -- 2902
وَنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، أنا زَيْدُ بْنُ أَبِي الْوَرْقَاءِ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْعُزِّيُّ ، نَا الْفِرْيَابِيُّ ، قَالا: نَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ بَاعَ سِلْعَةً فَأَفْلَسَ صَاحِبُهَا فَوَجَدَهَا بِعَيْنِهَا، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا دُونَ الْغُرَمَاءِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی سامان فروخت کرتا ہے، پھر اس کا ساتھی مفلس قرار دیا جاتا ہے اور پہلا شخص اپنے سامان کو بعینہ اس کے پاس پاتا ہے اور اس پہلے شخص نے سامان کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہیں کیا تھا، تو وہ سامان اسی شخص کو مل جائے گا، لیکن اگر اس نے اس قیمت میں سے کچھ وصول کر لیا تھا، تو پھر وہ دیگر قرض خواہوں کی مانند شمار ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2902]
ترقیم العلمیہ: 2866
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2402، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1559، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5036، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2327، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4681، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3519، 3520، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1262، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2632، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2358، 2359، 2360، 2361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2900، 2901، 2902، 2903، 2904، 2905، 2906، 2907، 4546، 4547، 4548، 4549، 4550، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7245، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1065، 1066: (4 / 430)»
الرواة الحديث:
أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي ← أبو هريرة الدوسي