سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
5. باب القراض
باب: قرض کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3000 ترقیم الرسالہ : -- 3033
ثنا ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، نَا أَبِي، نَا حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالا: نَا أَبُو الأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَعَنْ غَيْرِهِ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ" يَشْتَرِطُ عَلَى الرَّجُلِ إِذَا أَعْطَاهُ مَالا مُقَارَضَةً يَضْرِبُ لَهُ بِهِ، أَنْ لا تَجْعَلَ مَالِي فِي كَبِدٍ رَطْبَةٍ، وَلا تَحْمِلَهُ فِي بَحْرٍ، وَلا تَنْزِلَ بِهِ فِي بَطْنٍ مَسِيلٍ، فَإِنْ فَعَلْتَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ ضَمِنْتَ مَالِي" .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ جب کسی شخص کو مقارضہ کے طور پر کوئی چیز دیتے تھے، تو اس پر یہ شرط عائد کرتے تھے کہ ”تم میرے مال کو کسی جاندار کو نہیں دو گے، کسی سمندری سفر پر نہیں لے جاؤ گے، اسے لے کر کسی آبی گزرگاہ میں پڑاؤ نہیں کرو گے، اگر تم نے اس میں سے کچھ بھی کیا (اور میرا مال ضائع ہوا)، تو اس کا تاوان ادا کرو گے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 3033]
ترقیم العلمیہ: 3000
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3033، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← حكيم بن حزام القرشي