سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. باب الجعالة
باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3001 ترقیم الرسالہ : -- 3034
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةِ ثَلاثِينَ رَاكِبًا، قَالَ: فَنَزَلْنَا عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ فَسَأَلْنَاهُمْ أَنْ يُضَيِّفُونَا فَأَبَوْا، قَالَ: فَلُدِغَ سَيِّدُ الْحَيِّ فَأَتَوْنَا، فَقَالُوا: أَفِيكُمْ أَحَدٌ يَرْقِي مِنَ الْعَقْرَبِ؟، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ أَنَا، وَلَكِنْ لا أَفْعَلُ حَتَّى تُعْطُونَا، فَقَالُوا: فَإِنَّا نُعْطِيكُمْ ثَلاثِينَ شَاءً، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَبَرَأَ، قَالَ: فَلَمَّا قَبَضْنَاهَا عَرَضَ فِي أَنْفُسِنَا مِنْهَا شَيْءٌ، قَالَ: فَكَفَفْنَا حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: وَمَا عِلْمُكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ، فَاقْسِمُوهَا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ" ،.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تیس سواروں کو ایک مہم پر روانہ کیا، ہم نے ایک عرب قبیلے (کی بستی) کے پاس پڑاؤ کیا، ہم نے ان سے مہمان نوازی کی درخواست کی، تو انہوں نے انکار کر دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: قبیلے کے سردار کو (کسی زہریلے جانور نے) کاٹ لیا، وہ لوگ ہمارے پاس آئے اور دریافت کیا: ”کیا آپ میں سے کوئی شخص بچھو کے کاٹنے کا دم کر سکتا ہے؟“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے جواب دیا: ”ہاں، میں کر سکتا ہوں، لیکن میں ایسا اس وقت تک نہیں کروں گا، جب تک تم لوگ ہمیں (اس کا معاوضہ) ادا نہیں کرو گے۔“ انہوں نے کہا: ”ہم آپ لوگوں کو (اس کے معاوضے میں) تیس بکریاں دیں گے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے اس شخص پر سورہ فاتحہ سات مرتبہ پڑھ کر دم کیا، تو وہ ٹھیک ہو گیا، جب ہم نے وہ بکریاں وصول کیں، تو ہمیں اس بارے میں کچھ الجھن محسوس ہوئی، ہم نے ان بکریوں کا گوشت استعمال نہیں کیا، پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے دریافت کیا: ”تمہیں کیسے پتا چلا کہ اس کا دم بھی ہوتا ہے؟“ (میں نے جواب دیا: آپ نے بتایا ہے) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں تقسیم کر لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 3034]
ترقیم العلمیہ: 3001
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2276، 5007، 5736، 5749، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 2201، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6112، 6113، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2061، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3418، بدون ترقيم، 3900، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2063، 2064، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2156، 2156 م، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3034، 3035، 3036، 3037، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 11141»
الرواة الحديث:
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري