الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3095 ترقیم الرسالہ : -- 3133
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا رِمِّيَّا بِحَجَرٍ، أَوْ ضَرْبًا بِعَصًا، أَوْ سَوْطٍ فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ، وَمَنْ قَتَلَ اعْتِبَاطًا فَهُوَ قَوَدٌ لا يُحَالُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَاتِلِهِ، فَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَاتِلِهِ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلا عَدْلٌ" .
طاؤس، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص غلطی سے مارا جائے، یا پتھر سے مارا جائے، یا عصا یا لاٹھی کے ذریعے مارا جائے، تو اس کی دیت قتل خطاء کی دیت ہو گی، اور جس شخص کو قتل عمد کے طور پر قتل کیا جائے، اس کا قصاص ہو گا، اس شخص اور اس کے قاتل کے درمیان حائل نہیں ہوا جائے گا، جو اس شخص اور اس کے قاتل کے درمیان حائل ہو گا، اس پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی، ایسے شخص کی کوئی فرض یا نفلی عبادت قبول نہیں ہو گی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3133]
ترقیم العلمیہ: 3095
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 34، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4793، 4794، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6965، 6966، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4539، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2635،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3131، 3132، 3133، 3134، 3135، 3136، 3137، 3138، 3139، 3140، 3142، 3143»
«قال الدارقطني: المرسل هو الصحيح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (11 / 35)»
«قال الدارقطني: المرسل هو الصحيح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (11 / 35)»
الحكم على الحديث: مرسل
الرواة الحديث:
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي