سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
38. باب وجوب غسل القدمين والعقبين
بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ وَالْعَقِبَيْنِ
ترقیم العلمیہ : 315 ترقیم الرسالہ : -- 320
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ أَرْسَلَهُ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ يَسْأَلُهَا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنَّهُ كَانَ يَأْتِيهِنَّ وَكَانَتْ تُخْرِجُ لَهُ الْوَضُوءَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهَا فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ إِنَاءً، فَقَالَتْ: فِي هَذَا كُنْتُ أُخْرِجُ لَهُ الْوَضُوءَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا ثَلاثًا، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ يُمَضْمِضُ ثَلاثًا، وَيَسْتَنْشِقُ ثَلاثًا، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ مُقْبِلا وَمُدْبِرًا، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ" ، قَالَتْ: وَقَدْ أَتَانِي ابْنُ عَمٍّ لَكَ تَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَا أَجِدُ فِي الْكِتَابِ إِلا غَسْلَتَيْنِ وَمَسْحَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهَا: فَبِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ الإِنَاءُ؟ قَالَتْ: قَدْرُ مُدٍّ بِالْهَاشِمِيِّ، أَوْ مُدٍّ وَرُبُعٍ. قَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ: هَذِهِ الْمَرْأَةُ حَدَّثَتْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَدَأَ بِالْوَجْهِ قَبْلَ الْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ، وَقَدْ حَدَّثَ أَهْلُ بَدْرٍ مِنْهُمْ: عُثْمَانُ وَعَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ بَدَأَ بِالْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ قَبْلَ الْوَجْهِ وَالنَّاسُ عَلَيْهِ.
امام زین العابدین رحمہ اللہ نے سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے طریقے کے بارے میں دریافت کیا تو سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لایا کرتے تھے تو وہ خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھا کرتی تھیں۔ امام زین العابدین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں اس خاتون کے پاس آیا تو انہوں نے میرے سامنے برتن نکالا اور بتایا: ”اس برتن میں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کرنے کے لیے پانی نکالا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے آغاز میں دونوں ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین مرتبہ دھویا، پھر آپ نے وضو شروع کیا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی، پھر تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، دونوں بازوؤں کو دھویا، پھر اپنے سر کا آگے سے پیچھے کی طرف اور پیچھے سے آگے کی طرف مسح کیا، پھر دونوں پاؤں کو دھو لیا، پھر اس خاتون نے بتایا: ’میرے پاس تمہارے چچا زاد بھی آئے تھے، اس خاتون کی مراد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے، تو میں نے انہیں بھی اس بارے میں بتایا تھا تو انہوں نے یہ کہا: ’مجھے تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں دو چیزوں کو دھونے اور دو چیزوں پر مسح کرنے کا حکم ملتا ہے۔““ امام زین العابدین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے اس خاتون سے دریافت کیا: ”اس برتن میں کتنا پانی آ جاتا تھا؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جتنا ایک ’ہاشمی مد‘ ہوتا ہے، جتنا ایک عام مد اور ایک چوتھائی مد ہوتا ہے۔“ عباس بن یزید نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: اس خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات روایت کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے سے پہلے اپنے چہرے کو دھویا تھا، جبکہ اہل بدر نے یہ بات بیان کی ہے، جن میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کا آغاز کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے سے کرتے تھے اور یہ عمل چہرہ دھونے سے پہلے کرتے تھے اور لوگوں کا عام معمول بھی یہی ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 320]
ترقیم العلمیہ: 315
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 542، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 126، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 33، 34، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 717، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 418، 438، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 288، 289، 320، 371، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 345، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1167، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27657»
الرواة الحديث:
علي زين العابدين ← الربيع بنت معوذ الأنصارية