سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
38. بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ وَالْعَقِبَيْنِ
بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ وَالْعَقِبَيْنِ
ترقیم العلمیہ : 311 ترقیم الرسالہ : -- 316
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، ثنا اللَّيْثُ ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ وَبُطُونِ الأَقْدَامِ مِنَ النَّارِ" .
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”(بعض) ایڑھیوں اور تلووں کے لیے جہنم کی بربادی ہے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 316]
ترقیم العلمیہ: 311
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 163، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 201، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 584، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 326، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 316، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17982، 17983، 17987، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 195، 196»
ترقیم العلمیہ : 312 ترقیم الرسالہ : -- 317
نا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ، نا الْحَارِثُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ وَيُخَلِّلُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَيُدَلِّكُ عَقِبَيْهِ، وَيَقُولُ:" خَلِّلُوا بَيْنَ أَصَابِعِكُمْ، لا يُخَلِّلُ اللَّهُ تَعَالَى بَيْنَهُمَا بِالنَّارِ، وَيْلٌ لِلأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وضو کرتے تھے تو آپ (اپنے پاؤں کی) انگلیوں کا خلال کیا کرتے تھے اور اپنی ایڑھیوں کو ملا کرتے تھے، اور یہ فرمایا کرتے تھے: ”اپنی انگلیوں کا خلال کیا کرو، اللہ تعالیٰ ان کے درمیان آگ کو داخل نہیں کرے گا اور بعض ایڑھیوں کے لیے جہنم کی بربادی ہے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 317]
ترقیم العلمیہ: 312
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 240، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1059، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 452، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 161، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 317، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24757»
«قال ابن الملقن: فى إسناده عمر بن قيس قال البخاري منكر الحديث وقال الدارقطني ضعيف، البدر المنير فى تخريج الأحاديث والآثار الواقعة فى الشرح الكبير: 225/2»
«قال ابن الملقن: فى إسناده عمر بن قيس قال البخاري منكر الحديث وقال الدارقطني ضعيف، البدر المنير فى تخريج الأحاديث والآثار الواقعة فى الشرح الكبير: 225/2»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 313 ترقیم الرسالہ : -- 318
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، نا عَلَى بْنُ مُسْلِمٍ ، نا يَحْيَى بْنُ مَيْمُونِ بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلِّلُوا بَيْنَ أَصَابِعِكُمْ لا يُخَلِّلُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي النَّارِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”اپنی انگلیوں کے درمیان خلال کیا کرو، اللہ تعالیٰ ان کے درمیان قیامت کے دن آگ کے ذریعہ خلال نہیں کرے گا۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 318]
ترقیم العلمیہ: 313
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 318 انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 314 ترقیم الرسالہ : -- 319
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي الْوَلِيدِ، قَالا: نا هَمَّامٌ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ: كَانَ رِفَاعَةُ، وَمَالِكُ بْنُ رَافِعٍ أَخَوَيْنِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ، إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُصَلِّي وَنَحْنُ نَرْمُقُ صَلاتَهُ لا نَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا، فَلَمَّا صَلَّى جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، قَالَ هَمَّامٌ: فَلا أَدْرِي أَمَرَهُ بِذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: مَا أَلَوْتُ فَلا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلاتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا لا تَتِمُّ صَلاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ، فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ، وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ، ثُمَّ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَمَا أَذِنَ لَهُ فِيهِ وَتَيَسَّرَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ وَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، وَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهَ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَيَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ وَيَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ وَجْهَهُ"، قَالَ هَمَّامٌ: وَرُبَّمَا قَالَ:" جَبْهَتَهُ فِي الأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ"، فَوَصَفَ الصَّلاةَ هَكَذَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى فَرَغَ، ثُمَّ قَالَ:" لا تَتِمُّ صَلاةٌ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ" .
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا مالک بن رافع رضی اللہ عنہ یہ دونوں بھائی ہیں اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، ہم آپ کے ارد گرد موجود تھے، اسی دوران ایک شخص وہاں آیا۔ اس نے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی، جب اس نے نماز مکمل کر لی تو آکر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور حاضرین کو بھی سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم پر لازم ہے، تم واپس جاؤ اور جا کر نماز ادا کرو، کیونکہ تم نے درحقیقت نماز ادا نہیں کی۔“ اس شخص نے پھر نماز ادا کرنا شروع کی، ہم اس کی نماز کا غور سے جائزہ لیتے رہے، ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ اس نے کیا غلطی کی ہے؟ جب اس نے نماز ادا کر لی تو وہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حاضرین کو سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم پر لازم ہے، تم جاؤ اور جا کر دوبارہ نماز ادا کرو، تم نے درحقیقت نماز ادا نہیں کی۔“ ہمام نامی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ پتہ نہیں ہے، حدیث میں کیا مذکور ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو مرتبہ اس بات کی ہدایت کی یا تین مرتبہ ہدایت کی، پھر اس شخص نے عرض کی: ”میں نے کیا کمی کی ہے؟ مجھے یہ نہیں پتہ چل سکا کہ آپ میری نماز کے کس حصے کو غلط قرار دے رہے ہیں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی شخص کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی، جب تک وہ اچھی طرح سے اسی طرح وضو نہیں کر لیتا جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، آدمی پہلے اپنے چہرے کو دھوئے، پھر دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کرے، دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا ذکر کرے، اس کی ثناء بیان کرے، پھر سورة فاتحہ پڑھے پھر جو اس کے نصیب میں ہوا، اسے آسان لگے (قرآن کے کچھ حصے) کی تلاوت کرے، پھر تکبیر کہے اور رکوع میں جائے، اور اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے، یہاں تک کہ اس کے جوڑ مطمئن ہو جائیں اور کشادہ رہیں، پھر وہ ’سمع اللہ لمن حمدہ‘ پڑھے اور سیدھا کھڑا ہو جائے، یہاں تک کہ اس کی پشت سیدھی ہو جائے، اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جائے، پھر وہ تکبیر کہہ کر سجدے میں چلا جائے، اور اپنی پیشانی کو جما کر رکھے۔“ ہمام نامی راوی نے یہاں بعض اوقات یہ لفظ نقل کیے ہیں: ”اپنی پیشانی زمین پر رکھے، یہاں تک کہ اس کے جوڑ اطمینان کی حالت میں آ جائیں اور کشادہ ہو جائیں، پھر وہ تکبیر کہتے ہوئے اپنی سرین کے بل بیٹھ جائے، اور اپنی پشت کو سیدھا رکھے۔“ اس کے بعد انہوں نے چاروں رکعات میں نماز کے طریقے کو اسی طرح بیان کیا، یہاں تک کہ اسے مکمل بیان کر دیا اور (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) یہ ارشاد فرمایا: ”کسی بھی شخص کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ ایسا نہ کرے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 319]
ترقیم العلمیہ: 314
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 217، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 545، 597، 638، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1787، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 888، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 666، برقم: 1052، برقم: 1135، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 302، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1368، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 460، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 319، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19300»
ترقیم العلمیہ : 315 ترقیم الرسالہ : -- 320
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ أَرْسَلَهُ إِلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ يَسْأَلُهَا عَنْ وُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنَّهُ كَانَ يَأْتِيهِنَّ وَكَانَتْ تُخْرِجُ لَهُ الْوَضُوءَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهَا فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ إِنَاءً، فَقَالَتْ: فِي هَذَا كُنْتُ أُخْرِجُ لَهُ الْوَضُوءَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا ثَلاثًا، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ ثَلاثًا، ثُمَّ يُمَضْمِضُ ثَلاثًا، وَيَسْتَنْشِقُ ثَلاثًا، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ مُقْبِلا وَمُدْبِرًا، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ" ، قَالَتْ: وَقَدْ أَتَانِي ابْنُ عَمٍّ لَكَ تَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَا أَجِدُ فِي الْكِتَابِ إِلا غَسْلَتَيْنِ وَمَسْحَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهَا: فَبِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ الإِنَاءُ؟ قَالَتْ: قَدْرُ مُدٍّ بِالْهَاشِمِيِّ، أَوْ مُدٍّ وَرُبُعٍ. قَالَ الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ: هَذِهِ الْمَرْأَةُ حَدَّثَتْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَدَأَ بِالْوَجْهِ قَبْلَ الْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ، وَقَدْ حَدَّثَ أَهْلُ بَدْرٍ مِنْهُمْ: عُثْمَانُ وَعَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ بَدَأَ بِالْمَضْمَضَةِ وَالاسْتِنْشَاقِ قَبْلَ الْوَجْهِ وَالنَّاسُ عَلَيْهِ.
امام زین العابدین رحمہ اللہ نے سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے: انہوں نے سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے طریقے کے بارے میں دریافت کیا تو سیدہ ربیع رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لایا کرتے تھے تو وہ خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کا پانی رکھا کرتی تھیں۔ امام زین العابدین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں اس خاتون کے پاس آیا تو انہوں نے میرے سامنے برتن نکالا اور بتایا: ”اس برتن میں، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کرنے کے لیے پانی نکالا کرتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کے آغاز میں دونوں ہاتھوں کو برتن میں داخل کرنے سے پہلے تین مرتبہ دھویا، پھر آپ نے وضو شروع کیا اور اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی، پھر تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، دونوں بازوؤں کو دھویا، پھر اپنے سر کا آگے سے پیچھے کی طرف اور پیچھے سے آگے کی طرف مسح کیا، پھر دونوں پاؤں کو دھو لیا، پھر اس خاتون نے بتایا: ’میرے پاس تمہارے چچا زاد بھی آئے تھے، اس خاتون کی مراد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے، تو میں نے انہیں بھی اس بارے میں بتایا تھا تو انہوں نے یہ کہا: ’مجھے تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں دو چیزوں کو دھونے اور دو چیزوں پر مسح کرنے کا حکم ملتا ہے۔““ امام زین العابدین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے اس خاتون سے دریافت کیا: ”اس برتن میں کتنا پانی آ جاتا تھا؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”جتنا ایک ’ہاشمی مد‘ ہوتا ہے، جتنا ایک عام مد اور ایک چوتھائی مد ہوتا ہے۔“ عباس بن یزید نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: اس خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات روایت کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے سے پہلے اپنے چہرے کو دھویا تھا، جبکہ اہل بدر نے یہ بات بیان کی ہے، جن میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کا آغاز کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے سے کرتے تھے اور یہ عمل چہرہ دھونے سے پہلے کرتے تھے اور لوگوں کا عام معمول بھی یہی ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 320]
ترقیم العلمیہ: 315
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 542، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 126، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 33، 34، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 717، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 418، 438، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 288، 289، 320، 371، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 345، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1167، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27657»