سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب أحكام النكاح
باب: نکاح کے احکام کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3458 ترقیم الرسالہ : -- 3512
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ نَحْوَهُ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: لَمْ يَرْوِهِ إِلا ابْنُ وَهْبٍ، زَعَمُوا أَنَّ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ حِينَ، حَدَّثَهُ بِهِ أَصْبَغُ بَرَكَ مِنَ الْفَرَحِ، وَقَالَ أَصْبَغُ فِي حَدِيثِهِ:" أَرْسِلِي إِلَى فُلانٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا وَلا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ، فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ، وَإِنَّمَا يَصْنَعُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ، فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ يُسَمَّى نِكَاحَ الاسْتِبْضَاعِ"، وَقَالَ الصَّاغَانِيُّ: وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ أَصْبَغَ، نَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، إِلا أَنَّهُ قَالَ:" أَرْسِلِي إِلَى فُلانٍ وَاسْتَرْضِعِي مِنْهُ، وَاعْتَزَلَهَا زَوْجُهَا لا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَسْتَبِينَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَرْضِعُ مِنْهُ، وَكَانَ هَذَا يُسَمَّى نِكَاحَ الاسْتِرْضَاعِ"، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ: وَهُوَ الصَّوَابُ، وَقَالَ: فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ الْجَاهِلِيَّةِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: زمانہ جاہلیت میں چار طرح کے نکاح ہوتے تھے (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے)۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: (شوہر اپنی بیوی سے یہ کہتا) تم فلاں شخص کو پیغام بھیجو، پھر تم اس کے ساتھ صحبت کر لو۔ اس دوران اس عورت کا شوہر اس سے الگ رہتا اور عورت کے ساتھ اس وقت تک صحبت نہ کرتا جب تک اس شخص سے حمل ظاہر نہ ہو جاتا جس کے ساتھ عورت نے صحبت کی تھی۔ جب عورت کا حمل ظاہر ہو جاتا، تو شوہر اس کے ساتھ صحبت کر لیتا اگر اسے اس کی خواہش ہوتی۔ وہ ایسا اس لیے کرتا تھا تاکہ اس کی اولاد نجیب ہو۔ اس نکاح کو نکاح استبضاع کا نام دیا گیا تھا۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: (شوہر بیوی سے کہتا) تم فلاں شخص کو پیغام بھیجو اور اس سے حاملہ ہو جاؤ۔ عورت کا شوہر عورت سے الگ رہتا، اس وقت تک اس کے ساتھ صحبت نہ کرتا جب تک دوسرے شخص سے عورت کا حمل ظاہر نہ ہو جاتا۔ اس نکاح کو نکاح استرضاع کا نام دیا گیا تھا۔ محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں: یہ درست ہے (اس میں یہ الفاظ بھی ہیں) جب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا، تو زمانہ جاہلیت کے نکاح (کے مختلف طریقوں) کو ختم کر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3512]
ترقیم العلمیہ: 3458
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 5127، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2272، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13753، 14185، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3511، 3512»
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق