سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. باب
باب
ترقیم العلمیہ : 3647 ترقیم الرسالہ : -- 3703
نَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ دِينَارٍ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ الْقَاضِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِنَّائِيُّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّدَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْمُلاعَنَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ السَّائِلُ قَدْ نزل مِنَ اللَّهِ أَمْرٌ عَظِيمٌ، فَأَبَى الرَّجُلُ إِلا أَنْ يُلاعِنَهَا، وَأَبَتْ إِلا أَنْ تَدْرَأَ عَنْ نَفْسِهَا الْعَذَابَ، فَتَلاعَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا هِيَ تَجِيءُ بِهِ أُصَيْفِرَ أُخَيْنِسَ مَنْسُولَ الْعِظَامِ فَهُوَ لِلْمُلاعِنِ، وَأَمَّا تَجِيءُ بِهِ أَسْوَدَ كَالْجَمَلِ الأَوْرَقِ فَهُوَ لِغَيْرِهِ، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ كَالْجَمَلِ الأَوْرَقِ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ لِعَصَبَةِ أُمِّهِ، وَقَالَ: لَوْلا الأَيْمَانُ الَّتِي مَضَتْ لَكَانَ لِي فِيهِ كَذَا وَكَذَا" ، لَفْظُهُمَا وَاحِدٌ.
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ اسے واپس کر دیا، پھر اللہ نے لعان کے حکم سے متعلق آیات نازل کیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اللہ کی طرف سے ایک عظیم حکم نازل ہوا ہے۔“ پھر اس شخص نے لعان کرنے پر اصرار کیا اور عورت نے بھی یہ طے کر لیا کہ اپنی ذات سے عذاب کو دور کرے گی، راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں نے لعان کیا، (بعد میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ عورت زرد رنگ، چوڑے ناک اور کمزور جسم کے مالک بچے کو جنم دے، تو یہ لعان کرنے والے شخص کی اولاد ہو گا، اور اگر یہ عورت خاکستری اونٹ جیسے (مضبوط جسم کے مالک) سیاہ رنگ کے بچے کو جنم دے، تو یہ دوسرے شخص کی اولاد ہو گا۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) تو اس عورت نے سیاہ فام بچے کو جنم دیا، جو خاکستری (یعنی گہرے رنگ) کے اونٹ جیسا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو بلا کر اسے اس کی ماں کے رشتہ داروں کے سپرد کیا، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس بارے میں قسم (یعنی لعان) نہ ہو چکی ہوتی، تو میرا رویہ اس بارے میں مختلف ہوتا۔“ ان دونوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3703]
ترقیم العلمیہ: 3647
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6328، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3703، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 5146»
الرواة الحديث:
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي