🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ
باب
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3614 ترقیم الرسالہ : -- 3671
نَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ جَعْفَرٍ الْكَوْكَبِيُّ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو الْخَصِيبِ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَنْصُورُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اجْتَنِبُوا فِي النِّكَاحِ أَرْبَعَةً: الْجُنُونَ، وَالْجُذَامَ، وَالْبَرَصَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چار طرح کے لوگوں سے شادی کرنے سے بچو: جنون (پاگل پن)، جذام (کوڑھ)، برص (پھلہری)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3671]
ترقیم العلمیہ: 3614
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14342، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3671، 3674»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3615 ترقیم الرسالہ : -- 3671M
ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمِصْرِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَيُّوبَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، نَا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ التَّمِيمِيُّ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي غَيْرِ بَيْتِهَا إِنْ شَاءَتْ" ، لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ أَبِي مَالِكٍ النَّخَعِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَمَحْبُوبٌ، ضَعِيفٌ أَيْضًا.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوہ عورت کو یہ ہدایت کی کہ اگر وہ چاہے، تو اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسری جگہ عدت بسر کر سکتی ہے۔ اس روایت کو ابومالک نخعی کے علاوہ اور کسی نے سند کے ساتھ نقل نہیں کیا اور یہ راوی ضعیف ہے۔ اس روایت کا دوسرا راوی محبوب (بن محرز تمیمی) بھی ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3671M]
ترقیم العلمیہ: 3615
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15223»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3616 ترقیم الرسالہ : -- 3672
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ غُرَّ بِهَا رَجُلٌ بِهَا جُنُونٌ، أَوْ جُذَامٌ، أَوْ بَرَصٌ فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، وَصَدَاقُ الرَّجُلِ عَلَى وَلِيِّهَا الَّذِي غَرَّهُ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس عورت کی شادی کسی شخص سے دھوکے کے ساتھ کر دی جائے اور اس عورت کو جنون، جذام، یا برص ہو، تو عورت کو مہر ملے گا، کیونکہ اس مرد نے اس کے ساتھ صحبت کی ہے، اور مرد مہر کی وہ رقم عورت کے ولی سے وصول کرے گا، جس نے دھوکے کے ساتھ اس کی شادی کروائی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3672]
ترقیم العلمیہ: 3616
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1045، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 818، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13886،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3672، 3673، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10679، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3617 ترقیم الرسالہ : -- 3673
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ، نَا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ:" قَضَى عُمَرُ فِي الْبَرْصَاءِ، وَالْجَذْمَاءِ، وَالْمَجْنُونَةِ، إِذَا دُخِلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، وَالصَّدَاقُ لَهَا لِمَسِيسِهِ إِيَّاهَا، وَهُوَ لَهُ عَلَى وَلِيِّهَا، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ؟، قَالَ: نَعَمْ" .
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے برص، جذام، جنون کا شکار خاتون کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ اگر اس کا شوہر اس کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے، تو ان دونوں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کر وا دی جائے گی، عورت کو مرد کے صحبت کرنے کی وجہ سے مہر ملے گا، اور مرد وہ مہر عورت کے سرپرست سے وصول کرے گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3673]
ترقیم العلمیہ: 3617
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1045، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 818، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 13886،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3672، 3673، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10679، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16550»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3618 ترقیم الرسالہ : -- 3674
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَشُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" أَرْبَعٌ لا يَجُوزُ فِي بَيْعٍ وَلا نِكَاحٍ: الْمَجْنُونَةُ، وَالْمَجْذُومَةُ، وَالْبَرْصَاءُ، وَالْغَلْفَاءُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: چار طرح کی خواتین (کنیز ہوں) تو ان کو فروخت کرنا (اور آزاد یا کنیز ہوں) ان کی شادی کرنا جائز نہیں ہے: مجنون عورت، جذام کا شکار عورت، برص کا شکار عورت، اور شرمگاہ پھولی ہونے کی بیماری میں مبتلا عورت۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3674]
ترقیم العلمیہ: 3618
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14342، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3671، 3674»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3619 ترقیم الرسالہ : -- 3675
نَا نَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ :" أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مَجْنُونَةً، أَوْ جَذْمَاءَ، أَوْ بِهَا بَرَصٌ، أَوْ بِهَا قَرْنٌ، فَهِيَ امْرَأَتَهُ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص کسی پاگل، جذام کا شکار، پھلہری کا شکار، یا شرمگاہ میں رکاوٹ والی عورت کے ساتھ شادی کر لے، تو وہ عورت اس کی بیوی شمار ہو گی، اگر وہ مرد چاہے، تو اس عورت کو اپنے ساتھ رہنے دے، ورنہ اسے طلاق دے دے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3675]
ترقیم العلمیہ: 3619
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 820، 821، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14343، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3675، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1571»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3620 ترقیم الرسالہ : -- 3676
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا هُشَيْمٌ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ،" كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي مُسَلْسَلٍ يَخَافُ عَلَى امْرَأَتِهِ مِنْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ، أَنْ يُؤَجِّلَ سَنَةً فَإِنْ بَرَأَ، وَإِلا فَرَّقَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو مسلسل کے بارے میں خط لکھا تھا، جس کی وجہ سے اس کی بیوی کو نقصان ہونے کا اندیشہ تھا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا: اسے ایک سال کی مہلت دی جائے، اگر وہ ٹھیک ہو جائے، تو ٹھیک، ورنہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان علیحدگی کر وا دی جائے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3676]
ترقیم العلمیہ: 3620
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 2019، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3676، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18235»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3621 ترقیم الرسالہ : -- 3677
نَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الرَّازِيُّ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ الْيَمَانِ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يُفْسَدُ الْحَلالُ بِالْحَرَامِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی حلال چیز کسی حرام کی وجہ سے فاسد نہیں ہوتی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3677]
ترقیم العلمیہ: 3621
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14077، 14078، 14079، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3677، 3678، 3680، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 4803، 7224»
«قال ابن حجر: وفي إسنادهما عثمان بن عبد الرحمن الوقاصي وهو متروك، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 57)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3622 ترقیم الرسالہ : -- 3678
نَا أَبُو بَكْرٍ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا جَدِّي ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ" عَنِ الرَّجُلِ يَتْبَعُ الْمَرْأَةَ حَرَامًا ثُمَّ يَنْكِحُ ابْنَتَهَا، أَوْ يَتْبَعُ، الابْنَةَ، ثُمَّ يَنْكِحُ أُمَّهَا، قَالَ: لا يُحَرِّمُ الْحَرَامُ الْحَلالَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو کسی عورت کے ساتھ حرام فعل کرتا ہے اور پھر بعد میں اس کی بیٹی کے ساتھ شادی کر لیتا ہے یا کسی عورت کے ساتھ حرام فعل کرنے کے بعد اس کی ماں کے ساتھ بعد میں شادی کر لیتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی حرام چیز کسی حلال کو حرام نہیں کرتی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3678]
ترقیم العلمیہ: 3622
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14077، 14078، 14079، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3677، 3678، 3680، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 4803، 7224»
«قال ابن حجر: وفي إسنادهما عثمان بن عبد الرحمن الوقاصي وهو متروك، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 57)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 3623 ترقیم الرسالہ : -- 3679
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کوئی حرام چیز کسی حلال چیز کو حرام نہیں کرتی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3679]
ترقیم العلمیہ: 3623
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2015، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14076، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3679»
«قال محمد بن عبدالباقي: ضعيف السند إلا أنه يستأنس به، شرح الزرقاني على الموطأ: (3 / 212)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں