سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. بَابُ
باب
ترقیم العلمیہ : 3644 ترقیم الرسالہ : -- 3700
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَشَّابُ ، نَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الْحَرْبِيِّ يُسْلِمُ وَتَحْتَهُ أُخْتَانِ، قَالَ:" لَوْلا الْحَدِيثُ الَّذِي جَاءَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَهُ، لَقُلْتُ: يُمْسِكُ الأُولَى" .
اوزاعی سے ایسے حربی شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو دو بہنوں کا شوہر ہو، تو انہوں نے فرمایا: ”اگر اس بارے میں وہ حدیث نہ ہوتی، جس میں یہ منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت میں شوہر کو اختیار دیا تھا، تو میں یہ فتویٰ دیتا کہ وہ شخص (اس عورت کے ساتھ رہے گا، جس کے ساتھ) پہلے شادی ہوئی تھی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3700]
ترقیم العلمیہ: 3644
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3700، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 3645 ترقیم الرسالہ : -- 3701
نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَبُو إِبْرَاهِيمَ الْمُزَنِيُّ، قَالا: عَنِ الشَّافِعِيِّ، قَالَ:" إِذَا أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ أُخْتَانِ خُيِّرَ أَيَّهُمَا شَاءَ، فَإِنِ اخْتَارَ وَاحِدَةً ثَبَتَ نِكَاحُهَا، وَانْفَسَخَ نِكَاحُ الأُخْرَى، وَسَوَاءٌ كَانَ نَكَحَهُمَا فِي عُقْدَةٍ أَوْ فِي عَقْدٍ" .
امام شافعی فرماتے ہیں: جب کوئی شخص مسلمان ہو اور اس کی بیویاں سگی بہنیں ہوں، تو وہ شخص ان دونوں میں سے کسی ایک، جسے وہ چاہے، اختیار کر لے گا، تو اس عورت کے ساتھ اس کا نکاح برقرار رہے گا، دوسری عورت کے ساتھ اس کا نکاح فسخ ہو جائے گا، اس میں اس حوالے سے فرق نہیں ہو گا (اسلام قبول کرنے سے پہلے) اس نے ان دونوں کے ساتھ ایک ساتھ شادی کی تھی یا ایک کے بعد دوسری کی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3701]
ترقیم العلمیہ: 3645
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3701، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 3646 ترقیم الرسالہ : -- 3702
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْمُلاعَنَةِ وَعَنِ السُّنَّةِ فِيهَا، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَرَأَيْتَ رَجُلا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا أَيَقْتُلُهَا فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ بِهَا؟، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِمَا مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلاعِنَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ، فَتَلاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلا فَأَنْكَرَهُ، فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ مِنْهَا" .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک انصاری شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی فرد کو پاتا ہے، اگر وہ اس عورت کو قتل کر دیتا ہے، تو آپ لوگ اسے قتل کر دیں گے، ایسے شخص کو اس عورت کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں حکم نازل کیا، جو لعان کرنے والوں کے بارے میں قرآن میں مذکور ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ دے دیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں میاں بیوی نے مسجد میں لعان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی وہاں موجود تھا (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد اسی میاں بیوی کے بارے میں یہ طریقہ رائج ہوا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کر دی جاتی تھی۔ راوی کہتے ہیں: وہ عورت حاملہ تھی، مرد نے اس کے حمل کا انکار کیا، تو اس کے بعد اس عورت کے بیٹے کو اس کی ماں کی نسبت سے بلایا جاتا تھا، اس کے بعد یہ طریقہ رائج ہوا کہ ایسی عورت اپنے اس بچے کی وارث بنتی تھی، اور وہ بچہ اس عورت کا وارث بنتا تھا، جو اس نے بیٹے کی وراثت کے طور پر مقرر کیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3702]
ترقیم العلمیہ: 3646
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 423، 4745، 4746، 5259، 5308، 5309، 6854، 7165، 7166، 7304، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1492، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1118، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4283، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3404، 3468، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5565،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2245،2248، 2251، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2066، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3702، 3704، 3705، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23266، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17655، 37282»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 3647 ترقیم الرسالہ : -- 3703
نَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ دِينَارٍ ، نَا أَبُو الأَحْوَصِ الْقَاضِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِنَّائِيُّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّدَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْمُلاعَنَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ السَّائِلُ قَدْ نزل مِنَ اللَّهِ أَمْرٌ عَظِيمٌ، فَأَبَى الرَّجُلُ إِلا أَنْ يُلاعِنَهَا، وَأَبَتْ إِلا أَنْ تَدْرَأَ عَنْ نَفْسِهَا الْعَذَابَ، فَتَلاعَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا هِيَ تَجِيءُ بِهِ أُصَيْفِرَ أُخَيْنِسَ مَنْسُولَ الْعِظَامِ فَهُوَ لِلْمُلاعِنِ، وَأَمَّا تَجِيءُ بِهِ أَسْوَدَ كَالْجَمَلِ الأَوْرَقِ فَهُوَ لِغَيْرِهِ، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ كَالْجَمَلِ الأَوْرَقِ، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ لِعَصَبَةِ أُمِّهِ، وَقَالَ: لَوْلا الأَيْمَانُ الَّتِي مَضَتْ لَكَانَ لِي فِيهِ كَذَا وَكَذَا" ، لَفْظُهُمَا وَاحِدٌ.
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: بنو زریق سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ اسے واپس کر دیا، پھر اللہ نے لعان کے حکم سے متعلق آیات نازل کیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اللہ کی طرف سے ایک عظیم حکم نازل ہوا ہے۔“ پھر اس شخص نے لعان کرنے پر اصرار کیا اور عورت نے بھی یہ طے کر لیا کہ اپنی ذات سے عذاب کو دور کرے گی، راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں نے لعان کیا، (بعد میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ عورت زرد رنگ، چوڑے ناک اور کمزور جسم کے مالک بچے کو جنم دے، تو یہ لعان کرنے والے شخص کی اولاد ہو گا، اور اگر یہ عورت خاکستری اونٹ جیسے (مضبوط جسم کے مالک) سیاہ رنگ کے بچے کو جنم دے، تو یہ دوسرے شخص کی اولاد ہو گا۔“ (راوی بیان کرتے ہیں) تو اس عورت نے سیاہ فام بچے کو جنم دیا، جو خاکستری (یعنی گہرے رنگ) کے اونٹ جیسا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کو بلا کر اسے اس کی ماں کے رشتہ داروں کے سپرد کیا، آپ نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس بارے میں قسم (یعنی لعان) نہ ہو چکی ہوتی، تو میرا رویہ اس بارے میں مختلف ہوتا۔“ ان دونوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3703]
ترقیم العلمیہ: 3647
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6328، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3703، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 5146»
ترقیم العلمیہ : 3648 ترقیم الرسالہ : -- 3704
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَغَيْرُهُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ:" حَضَرْتُ الْمُتَلاعِنَيْنِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَلَّقَهَا ثَلاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مِمَّا صَنَعَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةٌ، فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلاعِنَيْنِ، يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ لا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا" .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لعان کرنے والے (میاں بیوی) کے واقعہ میں موجود تھا، اس مرد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اس عورت کو تین طلاقیں دے دیں، تو نبی نے ان کو نافذ قرار دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جو کچھ بھی کیا جائے، تو وہ سنت ہوتا ہے، جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر انکار نہ کریں۔ اس کے بعد لعان کرنے والوں کے درمیان یہی سنت رائج ہوئی کہ میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کر دی جاتی تھی اور پھر وہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3704]
ترقیم العلمیہ: 3648
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 423، 4745، 4746، 5259، 5308، 5309، 6854، 7165، 7166، 7304، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1492، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1118، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4283، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3404، 3468، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5565،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2245،2248، 2251، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2066، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3702، 3704، 3705، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23266، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17655، 37282»
«قال البيهقي: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 188)»
«قال البيهقي: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 188)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 3649 ترقیم الرسالہ : -- 3705
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَسَّانَ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا الْوَلِيدُ ، وَعُمَرُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ ، قَالا: نَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلانِيَّ، قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ:" سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا فَذَكَرَ قِصَّةَ الْمُتَلاعِنَيْنِ، وَقَالَ فِيهِ: فَتَلاعَنَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ: لا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا" .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عویمر عجلانی نے اپنے قبیلے کے ایک فرد سے یہ کہا: ”تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کرو، جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی اور فرد کو پاتا ہے۔“ اس کے بعد انہوں نے لعان کرنے والوں کا واقعہ بیان کیا، جس میں یہ الفاظ ہیں: ان دونوں نے لعان کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کر وا دی اور ارشاد فرمایا: ”یہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3705]
ترقیم العلمیہ: 3649
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 423، 4745، 4746، 5259، 5308، 5309، 6854، 7165، 7166، 7304، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1492، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1118، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4283، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3404، 3468، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5565،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2245،2248، 2251، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2066، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3702، 3704، 3705، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23266، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17655، 37282»
«قال البيهقي: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 188)»
«قال البيهقي: إسناده صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (8 / 188)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 3650 ترقیم الرسالہ : -- 3706
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ ، نَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُتَلاعِنَانِ إِذَا تَفَرَّقَا لا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”لعان کرنے والے (میاں بیوی) جب ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں، تو پھر وہ کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3706]
ترقیم العلمیہ: 3650
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4748، 5306، 5311، 5312، 5313، 5314، 5315، 5349، 5350، 6748، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1493، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1119، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4286،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3475، برقم: 3476، برقم: 3477، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2257، 2258، 2259، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1202، 1203، 3178،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2069،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3706، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 405، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 687، 688،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17671، 26980»
«قال ابن الملقن: هذا الحديث صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الك
«قال ابن الملقن: هذا الحديث صحيح، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الك
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 3651 ترقیم الرسالہ : -- 3707
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ ، نَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَيْسٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، قَالا:" مَضَتِ السُّنَّةُ فِي الْمُتَلاعِنَيْنِ أَنْ لا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (انہوں نے جو فرمایا ہے، وہ اگلی روایت میں ہے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ دونوں حضرات فرماتے ہیں: ”لعان کرنے والوں کے بارے میں یہی سنت رائج ہے کہ وہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3707]
ترقیم العلمیہ: 3651
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15455، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3707، 3708، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12434، 12436، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17658، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: بدون ترقيم، بدون ترقيم، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 9660»
ترقیم العلمیہ : 3652 ترقیم الرسالہ : -- 3708
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هَانِئٍ ، نَا أَبُو مَالِكٍ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، قَالا:" مَضَتِ السُّنَّةُ أَنْ لا يَجْتَمِعَ الْمُتَلاعِنَانِ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، دونوں حضرات فرماتے ہیں: ”یہی سنت رائج ہے کہ لعان کرنے والے بعد میں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3708]
ترقیم العلمیہ: 3652
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15455، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3707، 3708، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12434، 12436، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17658، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: بدون ترقيم، بدون ترقيم، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 9660»
ترقیم العلمیہ : 3653 ترقیم الرسالہ : -- 3709
نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُوسَى بْنِ عِيسَى الْقَارِيُّ ، أنا قَعْنَبُ بْنُ مُحْرِزٍ أَبُو عَمْرٍو ، نَا الْوَاقِدِيُّ ، نَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ ، يَقُولُ:" حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ لاعَنَ بَيْنَ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلانِيِّ وَامْرَأَتِهِ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوكَ وَأَنْكَرَ حَمْلَهَا الَّذِي فِي بَطْنِهَا، وَقَالَ: هُوَ لابْنِ السَّحْمَاءِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَاتِ امْرَأَتَكَ فَقَدْ نزل الْقُرْآنُ فِيكُمَا، فَلاعَنَ بَيْنَهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَلَى خَمْلٍ" ،.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عویمر عجلانی اور اس کی اہلیہ کے درمیان لعان کروایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب تبوک سے واپس تشریف لائے، تو عویمر نے اس عورت کے پیٹ میں موجود حمل (کا اپنی اولاد ہونے) کا انکار کر دیا اور یہ بولا: ”یہ ابن سحماء کی اولاد ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنی بیوی کو لے کر آؤ، تم دونوں کے بارے میں قرآن کا حکم نازل ہو چکا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز کے بعد منبر کے قریب اس حمل کے بارے میں ان دونوں سے لعان کروایا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3709]
ترقیم العلمیہ: 3653
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15404، 15405، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3709، 3710، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1743»
«قال ابن حجر: سنده ضعيف، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 355)»
«قال ابن حجر: سنده ضعيف، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 355)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف