سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. بَابُ
باب
ترقیم العلمیہ : 3664 ترقیم الرسالہ : -- 3720
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ، نَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: هُوَ الزَّوْجُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد شوہر ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3720]
ترقیم العلمیہ: 3664
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14558، 14559، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3720، 3721، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17264»
ترقیم العلمیہ : 3665 ترقیم الرسالہ : -- 3721
نَا ابْنُ غَيْلانَ، نَا أَبُو هِشَامٍ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: هُوَ الزَّوْجُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اس سے مراد شوہر ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3721]
ترقیم العلمیہ: 3665
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14558، 14559، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3720، 3721، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17264»
ترقیم العلمیہ : 3666 ترقیم الرسالہ : -- 3722
نَا نَا ابْنُ غَيْلانَ ، نَا أَبُو هِشَامٍ، نَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ " تَزَوَّجَ بِامْرَأَةٍ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَأَرْسَلَ بِالصَّدَاقِ، وَقَالَ: أَنَا أَحَقُّ بِالْعَفْوِ" .
محمد بن جبیر بیان کرتے ہیں: ان کے والد (سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ) نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی اور پھر رخصتی سے پہلے اسے طلاق دے دی، انہوں نے (اس عورت کو) مہر بھجوا دیا اور بولے: ”میں معاف کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہوں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3722]
ترقیم العلمیہ: 3666
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14560، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3714، 3715، 3716، 3722»
ترقیم العلمیہ : 3667 ترقیم الرسالہ : -- 3723
نَا ابْنُ غَيْلانَ، نَا أَبُو هِشَامٍ، نَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ:" الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ الزَّوْجُ" .
سعید بن مسیب فرماتے ہیں: ”جس شخص کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، اس سے مراد شوہر ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3723]
ترقیم العلمیہ: 3667
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14562، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3723، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10860، 10861، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17256»
ترقیم العلمیہ : 3668 ترقیم الرسالہ : -- 3724
نَا نَا ابْنُ غَيْلانَ، نَا أَبُو هِشَامٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ:" هُوَ الزَّوْجُ إِنْ شَاءَ أَتَمَّ لَهَا الصَّدَاقَ" ، وَكَذَلِكَ قَالَ نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ، وَطَاوُسٌ، وَمُجَاهِدٌ، وَالشَّعْبِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ، وَعَلْقَمَةُ، وَالْحَسَنُ:" هُوَ الْوَلِيُّ".
قاضی شریح فرماتے ہیں: ”اس سے مراد شوہر ہے، یعنی اگر وہ چاہے، تو عورت کو مکمل مہر ادا کرے۔“ شیخ فرماتے ہیں: نافع بن جبیر، محمد بن کعب، طاؤس، مجاہد، شعبی اور سعید بن جبیر نے اسی کی مانند بیان کیا ہے۔ ابراہیم، علقمہ اور حسن بصری فرماتے ہیں: ”اس سے مراد ولی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3724]
ترقیم العلمیہ: 3668
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 385، 390، 2141، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14561، 14563، 14564، 14566، 14570، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3724، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10859، 10886، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17252، 17255»
ترقیم العلمیہ : 3669 ترقیم الرسالہ : -- 3725
نَا نَا أَبُو الْقَاسِمِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرْشِدٍ الْبَزَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سُئِلَ" عَنِ الأُخْتَيْنِ مِمَّا مَلَكَتِ الْيَمِينِ، فَقَالَ: لا آمُرُكَ وَلا أَنْهَاكَ أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ، فَخَرَجَ السَّائِلُ فَلَقِيَ رَجُلا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ، قَالَ مَعْمَرٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: عَلِيٌّ، فَقَالَ: مَا سَأَلْتَ عَنْهُ عُثْمَانَ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا سَأَلَهُ وَبِمَا أَفْتَاهُ، فَقَالَ لَهُ:" لَكِنِّي أَنْهَاكَ وَلَوْ كَانَ لِي عَلَيْكَ سَبِيلٌ ثُمَّ فَعَلْتَ لَجَعَلْتُكَ نَكَالا".
قبیصہ بن ذوئب بیان کرتے ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ایسی دو بہنوں کے بارے میں دریافت کیا گیا، جو کسی کی ملکیت میں ہوں، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں ہدایت بھی نہیں کروں گا اور تمہیں منع بھی نہیں کروں گا، کیونکہ ایک آیت انہیں حلال قرار دیتی ہے اور ایک آیت انہیں حرام قرار دیتی ہے۔“ وہ سائل وہاں سے باہر نکلا، تو اس کی ملاقات ایک صحابی سے ہوئی۔ معمر نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: میرا خیال ہے وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے دریافت کیا: ”تم نے سیدنا عثمان سے کس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا؟“ اس شخص نے اپنے سوال کے بارے میں بتایا اور ان کے جواب کے بارے میں بھی بتایا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”میں تمہیں منع کروں گا، اگر میرا تم پر کوئی (سرکاری تسلط) ہو اور پھر تم اس کا ارتکاب کرو، تو میں تمہیں سزا دوں گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3725]
ترقیم العلمیہ: 3669
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1068، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14042، 14043،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3725،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16508، 16512، 16519»
ترقیم العلمیہ : 3670 ترقیم الرسالہ : -- 3726
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، وَيُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ سُئِلَ" عَنِ الْمَرْأَةِ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْكِ الْيَمِينِ، هَلْ تُوطَأُ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الأُخْرَى، فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي لا أُحِبُّ أَنْ أُجِيزَهَا جَمِيعًا وَنَهَاهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کیا گیا: اگر کوئی ماں اور بیٹی کسی شخص کی ملکیت میں آ جاتی ہیں، تو کیا ان میں سے ایک کے بعد دوسری سے صحبت کی جا سکتی ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں یہ پسند نہیں کروں گا کہ تم ان دونوں کے ساتھ صحبت کرو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (سائل کو ایسا کرنے سے) منع کر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3726]
ترقیم العلمیہ: 3670
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1067، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1733، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14044، 14045، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3726، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1736، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12725، 12726، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16499»
ترقیم العلمیہ : 3671 ترقیم الرسالہ : -- 3727
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، نَا مُعَلَّى، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ غَرِيبٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" إِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً وَأُمَّهَا، وَقَدْ وَلَدَتَا لِي كِلْتَاهُمَا فَمَا تَرَى، قَالَ: آيَةٌ تَحِلُّ وَآيَةٌ تُحَرِّمُ، وَلَمْ أَكُنْ أَفْعَلْهُ أَنَا وَلا أَهْلُ بَيْتِي" .
عریب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: ایک کنیز اور اس کی ماں میری ملکیت میں ہیں، ان دونوں نے میری اولاد کو جنم دیا ہے، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ایک آیت اسے حلال قرار دیتی ہے اور ایک آیت اسے حرام قرار دیتی ہے، میں ایسا نہیں کروں گا اور نہ ہی میرے خاندان کا کوئی فرد ایسا کرے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3727]
ترقیم العلمیہ: 3671
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3727، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 3672 ترقیم الرسالہ : -- 3728
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ ، نَا مُعَلَّى، نَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ :" أَيَقَعُ الرَّجُلُ عَلَى الْجَارِيَةِ وَابْنَتِهَا، تَكُونَانِ مَمْلُوكِينَ لَهُ، قَالَ: حَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ وَأَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ، وَلَمْ أَكُنْ لأَفْعَلَهُ" .
طارق بن قیس بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: کیا کوئی شخص اپنی کنیز اور اس کی بیٹی دونوں کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے، جبکہ وہ دونوں اس کی ملکیت ہوں؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ایک آیت نے ان دونوں کو حرام قرار دیا ہے اور ایک آیت نے ان کو حلال قرار دیا ہے، لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3728]
ترقیم العلمیہ: 3672
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1739، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3728، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16500»
ترقیم العلمیہ : 3673 ترقیم الرسالہ : -- 3729
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ ، نَا الْحَجَّاجُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ فَلَهَا ثَلاثٌ ثُمَّ تُقْسَمُ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی شخص ثیبہ عورت کے ساتھ شادی کرے، تو اس عورت کے ساتھ تین دن رہے، اس کے بعد (بیویوں کے درمیان) تقسیم شروع کرے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 3729]
ترقیم العلمیہ: 3673
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3729، انفرد به المصنف من هذا الطريق»