یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
9. باب
باب
ترقیم العلمیہ : 3793 ترقیم الرسالہ : -- 3853
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الأَشْعَثِ ، بِدِمَشْقَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ ، نَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ قَتَادَةَ عَنِ الظِّهَارِ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: إِنَّ أَوْسَ بْنَ الصَّامِتِ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ خُوَيْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ، فَشَكَتْ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: ظَاهَرَنِي حِينَ كَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الظِّهَارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لأَوْسٍ:" أَعْتِقْ رَقَبَةً، قَالَ: مَالِي بِذَلِكَ يَدَانِ، قَالَ: فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، قَالَ: أَمَّا إِنِّي إِذَا أَخْطَأَنِي أَنْ آكُلَ فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ يَكِلُّ بَصَرِي، قَالَ: فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قَالَ: لا أَجِدُ إِلا أَنْ تُعِينَنِي مِنْكَ بِعَوْنٍ وَصِلَةٍ، قَالَ: فَأَعَانَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ لَهُ، وَاللَّهُ رَحِيمٌ، قَالَ: وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ عِنْدَهُ مِثْلَهَا، وَذَلِكَ لِسِتِّينَ مِسْكِينًا" .
سعید بن بشیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے قتادہ سے ظہار کے بارے میں دریافت کیا، تو قتادہ نے بتایا: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے: سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ظہار کر لیا، اس خاتون نے اس بات کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی اور بولی: ”انہوں نے اس وقت میرے ساتھ ظہار کر لیا ہے، جب میری عمر زیادہ ہو گئی، ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے ظہار کے متعلق آیت نازل کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اوس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا: ”تم ایک غلام آزاد کرو۔“ انہوں نے عرض کی: ”میرے پاس اس کی گنجائش نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لگاتار دو ماہ کے روزے رکھو۔“ انہوں نے عرض کی: ”میری یہ حالت ہے کہ اگر میں ایک دن (کسی وقت) کھانا نہ کھا سکوں، تو میری نظر متاثر ہوتی ہے (یعنی کمزور بڑھ جاتی ہے)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ۔“ انہوں نے عرض کی: ”میری یہ حیثیت بھی نہیں ہے، البتہ اگر آپ میری مدد کریں اور صلہ رحمی سے کام لیں (تو میں ایسا کر سکتا ہوں)۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہ صاع مدد کے طور پر انہیں دیے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جمع کر دیا، اور اللہ نہایت رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں: لوگ یہ سمجھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ مقدار ہے، کیونکہ یہ اناج ساٹھ مسکینوں کے لیے تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3853]
ترقیم العلمیہ: 3793
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم:3853، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥سعيد بن بشير الأزدي، أبو هشام، أبو سلمة، أبو عبد الرحمن سعيد بن بشير الأزدي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ضعيف الحديث | |
👤←👥محمد بن بكار العاملي، أبو عبد الله محمد بن بكار العاملي ← سعيد بن بشير الأزدي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عبد الله بن محمد الفقيه، أبو بكر عبد الله بن محمد الفقيه ← محمد بن بكار العاملي | ثقة حافظ |
Sunan al-Daraqutni Hadith 3853 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري