سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3947 ترقیم الرسالہ : -- 4014
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" وَجَدَتْ حَفْصَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ فِي يَوْمِ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: لأُخْبِرَنَّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ عَلَيَّ حَرَامٌ إِنْ قَرَبْتُهَا، فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةَ بِذَلِكَ، فَأَعْلَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَسُولَهُ بِذَلِكَ فَعَرَّفَ حَفْصَةَ بَعْضَ مَا قَالَتْ: قَالَتْ لَهُ: مَنْ أَخْبَرَكَ؟، قَالَ: نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ، فَآلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4" ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَسَأَلْتُ عُمَرَ: مَنِ اللَّتَانِ تَظَاهَرَتَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: حَفْصَةُ، وَعَائِشَةُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ کے مخصوص دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ام ابراہیم (یعنی سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا) کے ساتھ پایا تو یہ کہا: میں (سیدہ عائشہ کو) اس بارے میں ضرور بتاؤں گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (یعنی ام ابراہیم) میرے لیے حرام ہے کہ میں اس کے قریب جاؤں۔“ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ کو اس بارے میں بتا دیا تو اللہ نے اپنے رسول کو اس بارے میں بتا دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ کو ان کی بات کے بارے میں بتایا تو انہوں نے دریافت کیا: آپ کو کس نے بتایا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے علم اور خبر رکھنے والی ذات نے اطلاع دی ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ کے لیے اپنی ازواج کے ساتھ ایلاء کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”اگر تم دونوں اللہ کی بارگاہ میں توبہ کر لو (تو یہ مناسب ہو گا) کیونکہ تم دونوں کے دل ٹیڑھے ہو گئے تھے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، وہ دو خواتین کون تھیں، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے (اس فعل کے حوالے سے) ایک دوسرے کا ساتھ دیا تھا؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عائشہ اور حفصہ۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 4014]
ترقیم العلمیہ: 3947
تخریج الحدیث: «إسناده وهم ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 89، 2468، 4913، 4914، 4915، 5191، 5218، 5843، 6218، 7256، 7263، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1479، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1921، 2178، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3453، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2134، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 9112، 11546، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2461، 2691، 3318، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 4153، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4013، 4014، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 227، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9694»
«قال الدارقطني: حدث به مرزوق بن أبي الهذيل عن الزهري فقال عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن
«قال الدارقطني: حدث به مرزوق بن أبي الهذيل عن الزهري فقال عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود عن
الحكم على الحديث: إسناده وهم ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
الرواة الحديث:
عبيد الله بن عبد الله الهذلي ← عبد الله بن العباس القرشي