الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
43. باب فى وجوب الغسل بالتقاء الختانين وإن لم ينزل
باب: شرمگاہوں کے مل جانے سے غسل واجب ہوجاتا ہے، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
ترقیم العلمیہ : 398 ترقیم الرسالہ : -- 405
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ:" وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَأَكْفَأَ الإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَنْ يَمِينِهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَأَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ عَلَى الْحَائِطِ أَوِ الأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کے لیے پانی رکھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کرنا تھا۔“ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو تین، تین مرتبہ دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اپنی شرمگاہ پر پانی بہایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ دیوار یا زمین پر ملا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے اور بازوؤں کو دھویا اور پھر آپ نے اپنے پورے جسم پر پانی بہالیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ سے ہٹ گئے اور دونوں پاؤں کو دھو لیا۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 405]
ترقیم العلمیہ: 398
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 249، 257، 259، 260، 265، 266، 274، 276، 281، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 317، 337، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 241، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1190، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 253، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 245، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 103، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 404، 405، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 318، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27440»
«»
«»
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← ميمونة بنت الحارث الهلالية