سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
43. بَابٌ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ بِالْتِقَاءِ الْخِتَانَيْنِ وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ
باب: شرمگاہوں کے مل جانے سے غسل واجب ہوجاتا ہے، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
ترقیم العلمیہ : 385 ترقیم الرسالہ : -- 392
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، نا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ”جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔“ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایسا کرتے تھے تو ہم دونوں غسل کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 392]
ترقیم العلمیہ: 385
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 348، 349، 350، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 143، 144، 145، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 227، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1175،، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 108، 109، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 608، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 392، 393، 394، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24843»
ترقیم العلمیہ : 386 ترقیم الرسالہ : -- 393
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ ، أَخْبَرَنِي أبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا" سُئِلَتْ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ الْمَرْأَةَ وَلا يُنْزِلُ الْمَاءَ؟ قَالَتْ: فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاغْتَسَلْنَا مِنْهُ جَمِيعًا" . رَفَعَهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدٍ. وَرَوَاهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَغَيْرُهُمْ مَوْقُوفًا.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ایسا کرتے تھے تو ہم دونوں ایک ساتھ غسل کیا کرتے تھے۔“ یہی روایت بعض دیگر حوالوں سے ”مرفوع“ روایت کے طور پر منقول ہے اور بعض اسناد کے حوالے سے ”موقوف“ روایت کے طور پر منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 393]
ترقیم العلمیہ: 386
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 348، 349، 350، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 143، 144، 145، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 227، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1175،، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 108، 109، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 608، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 392، 393، 394، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24843»
ترقیم العلمیہ : 387 ترقیم الرسالہ : -- 394
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، نا عَمِّي ، حَدَّثَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ،" أَنَّ رَجُلا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ أَهْلَهُ ثُمَّ يَكْسَلُ، هَلْ عَلَيْهِ غُسْلٌ؟ وَعَائِشَةُ جَالِسَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لأَفْعَلُ ذَلِكَ أَنَا وَهَذِهِ ثُمَّ نَغْتَسِلُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے، ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے اور پھر انزال ہونے سے پہلے (صحبت ختم کر دیتا ہے)، ”کیا اس پر غسل کرنا لازم ہو گا؟“ تو اس وقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی وہاں بیٹھی ہوئی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”میں اور یہ (یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) بعض اوقات اس طرح بھی کر لیتے ہیں لیکن پھر ہم غسل کرتے ہیں۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 394]
ترقیم العلمیہ: 387
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 348، 349، 350، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 143، 144، 145، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 227، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1175،، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 108، 109، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 608، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 392، 393، 394، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24843»
ترقیم العلمیہ : 388 ترقیم الرسالہ : -- 395
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نا الْمُتَوَكِّلُ بْنُ فُضَيْلٍ أَبُو أَيُّوبَ الْحَدَّادُ بَصْرِيُّ ، عَنْ أَبِي ظِلالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الصُّبْحِ وَقَدِ اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ فَكَانَ نُكْتَةٌ مثل الدِّرْهَمِ يَابِسٌ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا الْمَوْضِعَ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ فَسَلَتَ شَعْرَهُ مِنَ الْمَاءِ وَمَسَحَهُ بِهِ وَلَمْ يُعِدِ الصَّلاةَ" . الْمُتَوَكِّلُ بْنُ فُضَيْلٍ، ضَعِيفٌ. وَرُوِيَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلانَ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی۔ آپ نے غسل جنابت کیا ہوا تھا، آپ کے جسم مبارک پر ایک ورمہ جتنا حصہ خشک رہ گیا تھا جہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا۔ عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! اس جگہ تک پانی نہیں پہنچا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالوں میں سے پانی کو اس جگہ ٹپکایا اور وہاں ہاتھ پھیر لیا، آپ نے نماز از سر نو ادا نہیں کی۔ اس روایت کا راوی متوکل بن فضیل ضعیف ہے۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، جس کا ایک راوی متروک الحدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 395]
ترقیم العلمیہ: 388
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 395، انفرد به المصنف من هذا الطريق، قال الدارقطني: المتوكل بن فضيل ضعيف . وروي عن عطاء بن عجلان - وهو متروك الحديث - عن ابن أبى مليكة عن عائشة .»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 389 ترقیم الرسالہ : -- 396
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَنَابَةٍ فَرَأَى لُمْعَةً بِجِلْدِهِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَعَصَرَ خَصْلَةً مِنْ شَعْرِ رَأْسِهِ فَأَمَسَّهَا ذَلِكَ الْمَاءَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کیا، پھر آپ کو اپنی جلد پر ایک چھوٹا سا حصہ نظر آیا، جس تک پانی نہیں پہنچا تھا تو آپ نے اپنے سر کے بالوں میں سے کچھ پانی نچوڑا اور وہ پانی اس جگہ پر لگایا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 396]
ترقیم العلمیہ: 389
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 396، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 390 ترقیم الرسالہ : -- 397
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ ، نا عَفَّانُ ، نا هَمَّامُ ، عَنِ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ وَأَجْهَدَ نَفْسَهُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ أنزل أَوْ لَمْ يُنْزِلْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”جب کوئی شخص عورت کے ساتھ صحبت کرے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے خواہ اسے انزال ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 397]
ترقیم العلمیہ: 390
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 291، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 348، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1174، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 191، برقم: 192، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 195، 196، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 216، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 788، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 610، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 397، 398، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7318»
«قال الدارقطني:صححه، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (3 / 246)»
«قال الدارقطني:صححه، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (3 / 246)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 391 ترقیم الرسالہ : -- 398
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ ، نا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، وَمَطَرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا قَعَدَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ وَاجْتَهَدَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ" ، قَالَ أَحَدُهُمَا:" وَإِنْ لَمْ يُنْزِلْ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ صحبت کرے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے۔“ ایک راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اگرچہ اس کو انزال نہ ہوا ہو۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 398]
ترقیم العلمیہ: 391
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 291، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 348، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1174، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 191، برقم: 192، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 195، 196، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 216، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 788، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 610، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 397، 398، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7318»
«قال الدارقطني:صححه، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (3 / 246)»
«قال الدارقطني:صححه، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (3 / 246)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 392 ترقیم الرسالہ : -- 399
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُرْشِدٍ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْغُسْلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجَنَابَةِ، وَالْجُمُعَةِ، وَالْحِجَامَةِ، وَغُسْلِ الْمَيِّتِ" . مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ، لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَلا بِالْحَافِظِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”چار وجہ سے غسل لازم ہو جاتا ہے: جنابت کی وجہ سے، جمعہ کے دن، پھپنے لگوانے کے بعد اور میت کو غسل دینے کے بعد۔“ اس روایت کا ایک راوی مصعب بن شیبہ مستند نہیں ہے اور حافظ بھی نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 399]
ترقیم العلمیہ: 392
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 256، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 586، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 348، 3160، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1448، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 399، 482، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25829»
«قال ابن حجر: في إسناده مصعب بن شيبة وفيه مقال، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 236)»
«قال ابن حجر: في إسناده مصعب بن شيبة وفيه مقال، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 236)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 393 ترقیم الرسالہ : -- 400
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأُبُلِّيُّ ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْعَسْكَرِيُّ ، نا أَبُو عُمَرَ الْمَازِنِيُّ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى الْمَاءِ جَنَابَةٌ، وَلا عَلَى الأَرْضِ جَنَابَةٌ، وَلا عَلَى الثَّوْبِ جَنَابَةٌ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”پانی پر جنابت لاحق نہیں ہوتی، زمین پر اثر انداز نہیں ہوتی اور کپڑے پر اثر انداز نہیں ہوتی (یعنی کوئی جنبی شخص اگر پانی میں ہاتھ ڈال دے یا زمین پر لیٹ جائے یا کوئی کپڑا پہن لے تو وہ ناپاک نہیں ہوتے)۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 400]
ترقیم العلمیہ: 393
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف،وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 400»
«قال ابن حجر: حفص لا يعرف، لسان الميزان: (3 / 237)»
«قال ابن حجر: حفص لا يعرف، لسان الميزان: (3 / 237)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 394 ترقیم الرسالہ : -- 401
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ح نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَرْبَعٌ لا يُجْنَبْنَ: الإِنْسَانُ، وَالْمَاءُ، وَالأَرْضُ، وَالثَّوْبُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”چار چیزوں میں جنابت نہیں ہے: انسان میں، پانی میں، زمین میں اور کپڑے میں۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 401]
ترقیم العلمیہ: 394
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1287، 1288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 401، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 309، 1450، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1838، 2111»