الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. باب ما تبقى بعد الفريضة للعصبة
باب
ترقیم العلمیہ : 4025 ترقیم الرسالہ : -- 4096
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ امْرَأَةَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ سَعْدًا هَلَكَ، وَتَرَكَ ابْنَتَيْنِ، وَأَخَاهُ، فَعَمَدَ أَخُوهُ فَقَبَضَ مَا تَرَكَ سَعْدٌ، وَإِنَّمَا تُنْكَحُ النِّسَاءُ عَلَى أَمْوَالِهِنَّ، فَلَمْ يُجِبْهَا فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَتْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْنَتَا سَعْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادْعُ لِي أَخَاهُ، فَجَاءَ، فَقَالَ: ادْفَعْ إِلَى ابْنَتَيْهِ الثُّلُثَيْنِ، وَإِلَى امْرَأَتِهِ الثُّمُنَ، وَلَكَ مَا بَقِيَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ انتقال کر گئے ہیں، انہوں نے (پس ماندگان میں) دو بیٹیاں اور ایک بھائی چھوڑا ہے، ان کے بھائی نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا چھوڑا ہوا سارا مال اپنے قبضہ میں لے لیا ہے، خواتین کے ساتھ ان کی مالی حیثیت کے حساب سے نکاح کیا جانا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محفل کے دوران اس خاتون کو کوئی جواب نہیں دیا، پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی دو صاحبزادیوں کا معاملہ ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے بھائی کو میرے پاس بلاؤ۔“ وہ شخص آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس کی بیٹیوں کو دو تہائی حصہ دو اور اس کی اہلیہ کو آٹھواں حصہ دو اور جو باقی بچ جائے، وہ تمہیں ملے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4096]
ترقیم العلمیہ: 4025
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8049، 8087، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2891، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2092، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2720، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4093، 4094، 4095، 4096، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15026»
الرواة الحديث:
عبد الله بن عقيل الهاشمي ← جابر بن عبد الله الأنصاري