سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. لا وصية لوارث
لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ
ترقیم العلمیہ : 4086 ترقیم الرسالہ : -- 4159
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَطَنِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْصَارِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ ثَعْلَبٍ ، نَا مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ الْبَاهِلِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ مِيرَاثِ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ، فَقَالَ: لا أَدْرِي حَتَّى يَأْتِيَنِي جِبْرِيلُ، ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ مِيرَاثِ الْعَمَّةِ وَالْخَالَةِ؟، فَأَتَى الرَّجُلُ، فَقَالَ: سَارَّنِي جِبْرِيلُ أَنَّهُ لا شَيْءَ لَهُمَا" ، لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ مَسْعَدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَالصَّوَابُ مُرْسَلٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھوپھی اور خالہ کی وراثت کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے فرمایا کہ: ”مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے، جبرائیل علیہ السلام مجھے آ کر (اس بارے میں بتا دیں گے)۔“ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”پھوپھی اور خالہ کی وراثت کے بارے میں دریافت کرنے والے شخص کہاں ہے؟“ اس شخص کو لایا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ ان دونوں کو کوئی چیز نہیں ملے گی (یعنی یہ وارث نہیں بنیں گی)۔“ اس روایت کو محمد بن عمرو کے حوالے سے صرف مسعدہ نامی راوی نے نقل کیا ہے اور یہ راوی ضعیف ہے، درست یہ ہے کہ یہ روایت ”مرسل“ ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4159]
ترقیم العلمیہ: 4086
تخریج الحدیث: «مرسل ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4159، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال الدارقطني: لم يسنده غير مسعدة عن محمد بن عمرو وهو ضعيف والصواب مرسل، سنن الدارقطني: (5 / 174) برقم: (4159)»
«قال الدارقطني: لم يسنده غير مسعدة عن محمد بن عمرو وهو ضعيف والصواب مرسل، سنن الدارقطني: (5 / 174) برقم: (4159)»
الحكم على الحديث: مرسل ضعيف
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي