سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب
مکاتب کے احکام
ترقیم العلمیہ : 4191 ترقیم الرسالہ : -- 4267
نَا نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي ابْنُ عَمْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ وَهُوَ أَبُو الرِّجَالِ ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ أَصَابَهَا مَرَضٌ وَأَنَّ بَعْضَ بَنِي أَخِيهَا ذَكَرُوا شَكْوَاهَا لِرَجُلٍ مِنَ الزُّطِّ يَتَطَبَّبُ، وَأَنَّهُ قَالَ لَهُمْ: إِنَّكُمْ لَتَذْكُرُونَ امْرَأَةً مَسْحُورَةً سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ لَهَا فِي حِجْرِ الْجَارِيَةِ الآنَ صَبِيُّ قَدْ بَالَ فِي حِجْرِهَا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتِ:" ادْعُوا لِي فُلانَةَ، لَجَارِيَةٍ لَهَا، فَقَالُوا فِي حِجْرِهَا فُلانٌ صَبِيُّ لَهُمْ قَدْ بَالَ فِي حِجْرِهَا، فَقَالَتِ: ائْتُونِي بِهَا، فَأُتِيَتْ بِهَا، فَقَالَتْ: سَحَرْتِينِي؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: لِمَهْ؟، قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أُعْتَقَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ أَعْتَقَتْهَا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ أَنْ لا تُعْتَقِي أَبَدًا، انْظُرُوا أَسْوَأَ الْعَرَبِ مَلَكَةً فَبِيعُوهَا مِنْهُمْ، وَاشْتَرَتْ بِثَمَنِهَا جَارِيَةً فَأَعْتَقَتْهَا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ وہ بیمار ہو گئیں، تو ان کے کسی بھتیجے نے ان کی بیماری کا تذکرہ ”زط“ قبیلے سے تعلق رکھنے والے کسی شخص سے کیا، جو طبیب تھا، تو وہ شخص بولا: تم جن کے بارے میں بتا رہے ہو، اس خاتون پر جادو کیا گیا ہے اور یہ جادو اس کی کسی کنیز نے کیا ہے، جس کی گود میں اس وقت بچہ بھی موجود ہے اور اس بچے نے اس عورت کی گود میں پیشاب کیا تھا۔ ان بھتیجوں نے اس بات کا تذکرہ سیدہ عائشہ سے کیا، تو سیدہ عائشہ نے فرمایا کہ فلاں کنیز کو میرے پاس لے کر آؤ، انہوں نے اپنی ایک کنیز کے بارے میں کہا: تو ان لوگوں نے بتایا کہ اس کی گود میں اس کا ایک بچہ ہے، جس نے سیدہ عائشہ کی گود میں پیشاب کیا تھا، تو سیدہ عائشہ نے کہا: کہ اسے میرے پاس لے کر آؤ۔ اس کنیز کو لایا گیا، تو سیدہ عائشہ نے دریافت کیا: ”تم نے مجھ پر جادو کیا تھا؟“ تو اس نے جواب دیا: جی ہاں! سیدہ عائشہ نے دریافت کیا: ”وہ کیوں؟“ اس نے جواب دیا: ”میں یہ چاہتی تھی کہ آپ مجھے آزاد کر دیں۔“ تو سیدہ عائشہ نے مدبر کے طور پر اس کنیز کو آزاد کر دیا، پھر سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”اب اللہ کے نام پر یہ بات مجھ پر لازم ہے کہ تم کبھی آزاد نہیں ہو سکتی۔“ (پھر انہوں نے لوگوں سے فرمایا:) ”کوئی ایسا شخص ڈھونڈو، جو بہت برا مالک ہو اور اس کنیز کو اس سے فروخت کر دو۔“ پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کی قیمت کے عوض میں ایک اور کنیز خرید لی اور اسے آزاد کر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب المكاتب/حدیث: 4267]
ترقیم العلمیہ: 4191
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7611، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 16602، 21598، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4267، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24760، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 16667، 18749، 18750»
«قال ابن حجر: وإسناده صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 77)»
«قال ابن حجر: وإسناده صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 77)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
محمد بن عبد الرحمن الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق