🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. كتاب عمر رضى الله عنه إلى أبى موسى الأشعري
باب: حضرت عمر (رض) کا حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے نام مکتوب
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4391 ترقیم الرسالہ : -- 4471
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ النُّعْمَانِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ" أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْقَضَاءَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ، فَافْهَمْ إِذَا أُدْلِيَ إِلَيْكَ بِحُجَّةٍ، وَأَنْفِذِ الْحَقَّ إِذَا وَضَحَ، فَإِنَّهُ لا يَنْفَعُ تَكَلُّمٌ بِحَقٍّ لا نَفَاذَ لَهُ، وَآسِ بَيْنَ النَّاسِ فِي وَجْهِكَ، وَمَجْلِسِكَ، وَعَدْلِكَ، حَتَّى لا يَيْأَسَ الضَّعِيفُ مِنْ عَدْلِكَ، وَلا يَطْمَعُ الشَّرِيفُ فِي حَيْفِكَ، الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى، وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، وَالصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلالا، لا يَمْنَعْكُ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالأَمْسِ رَاجَعْتَ فِيهِ نَفْسَكَ وَهُدِيتَ فِيهِ لِرُشْدِكَ أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ وَمُرَاجَعَةَ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ، الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا يَخْتَلِجُ فِي صَدْرِكَ مِمَّا لَمْ يَبْلُغْكَ فِي الْكِتَابِ أَوِ السُّنَّةِ، اعْرِفِ الأَمْثَالَ وَالأَشْبَاهَ، ثُمَّ قِسِ الأُمُورَ عِنْدَ ذَلِكَ فَاعْمَدْ إِلَى أَحَبِّهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأَشْبَهِهَا بِالْحَقِّ فِيمَا تَرَى، وَاجْعَلْ لِمَنِ ادَّعَى بَيِّنَةً أَمَدًا يَنْتَهِي إِلَيْهِ، فَإِنْ أَحْضَرَ بَيِّنَةً أَخَذَ بِحَقِّهِ وَإِلا وَجَّهْتَ الْقَضَاءَ عَلَيْهِ فَإِنَّ ذَلِكَ أَجْلَى لِلْعَمَى وَأَبْلَغُ فِي الْعُذْرِ، الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلا مَجْلُودٌ فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبٌ فِي شَهَادَةِ زُورٍ، أَوْ ظِنِّينٌ فِي وَلاءٍ، أَوْ قَرَابَةٍ، إِنَّ اللَّهَ تَوَلَّى مِنْكُمُ السَّرَائِرَ وَدَرَأَ عَنْكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ، وَإِيَّاكَ وَالْقَلَقَ، وَالضَّجَرَ، وَالتَّأَذِّيَ بِالنَّاسِ، وَالتَّنَكُّرَ لِلْخُصُومِ فِي مَوَاطِنَ الْحَقِّ الَّتِي يُوجِبُ اللَّهُ بِهَا الأَجْرَ وَيُحْسِنُ بِهَا الذُّخْرَ، فَإِنَّهُ مَنْ يُصْلِحُ نِيَّتَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ وَلَوْ عَلَى نَفْسِهِ يَكْفِهِ اللَّهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَمَنْ تَزَيَّنَ لِلنَّاسِ بِمَا يَعْلَمُ اللَّهُ ذَلِكَ يَشِنْهُ اللَّهُ، فَمَا ظَنُّكَ بِثَوَابِ غَيْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي عَاجِلِ رِزْقِهِ وَخَزَائِنِ رَحْمَتِهِ، وَالسَّلامُ عَلَيْكَ" .
ابوالملیح ہذلی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں یہ تحریر تھا: (امابعد!) قضا ایک ایسا فریضہ ہے جو انتہائی ضروری ہے اور ایک ایسا طریقہ ہے جسے برقرار رہنا چاہیے۔ تو جب تمہارے سامنے ثبوت آ جائے، حق واضح ہو جائے تو تم اسے نافذ کر دو اور ایسے حق کے بارے میں کلام کرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا جسے نافذ نہ کیا جا سکے۔ تم لوگوں کے ساتھ برابری کی سطح پر بیٹھو، انہیں برابر سمجھو یہاں تک کہ کوئی کمزور شخص تمہاری امید و انصاف سے ناامید نہ ہو اور کوئی صاحب حیثیت شخص تم سے کسی زیادتی کی امید نہ رکھے۔ ثبوت پیش کرنا اس شخص پر لازم ہو گا جو دعویٰ کرتا ہے اور قسم اٹھانا اس پر لازم ہو گا جو اس کا انکار کرتا ہے۔ مسلمانوں کے درمیان صلح کروا دینا جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حرام چیز کو حلال کر دے اور حلال چیز کو حرام قرار دے۔ اگلے دن فیصلہ کرتے ہوئے یہ چیز تمہارے لیے رکاوٹ نہ بنے کہ تم نے اس کے بارے میں دوبارہ غور و فکر کیا اور تمہیں اس مسئلے کا کوئی نیا حل سمجھ میں آ گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تم نے حق کی طرف رجوع کرنا ہے، حق قدیم ہوتا ہے اور حق کی طرف واپس چلے جانا، باطل کو مسلسل کرتے رہنے سے زیادہ بہتر ہے۔ سمجھ سے کام لینا، ہر اس چیز کے بارے میں جس کے بارے میں تمہارے ذہن میں کھٹکا ہو، اور اس بارے میں تم تک کتاب یا سنت کا کوئی حکم نہ پہنچ چکا ہو، تو ایسی صورت میں اس کی مانند دوسری صورتوں کو سامنے رکھنا اور احکام کو قیاس کرنا اور اس کو ترجیح دینا، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ محسوس ہو اور حق سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو، تمہاری رائے کے مطابق۔ جس شخص نے دعویٰ کیا ہو، اگر وہ ثبوت پیش کرنے کے لیے مہلت مانگے تو اسے ثبوت پیش کرنے کے لیے مہلت دو اور اگر ثبوت پیش ہو جائے تو اس کے حق کے مطابق فیصلہ دو، اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس شخص کے خلاف فیصلہ دے دو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صورت حال نابینا شخص کے لیے بھی واضح ہو گئی ہے اور عذر کے حوالے سے زیادہ بلیغ ہے۔ ہر مسلمان عادل ہے، وہ ایک دوسرے سے متعلق ہیں، البتہ جس شخص کو حد کی سزا کے طور پر کوڑے لگائے گئے ہوں یا جس شخص کے بارے میں تجربہ یہ ہو کہ وہ جھوٹی گواہی دیتا ہے، یا جس کے بارے میں یہ گمان ہو کہ وہ ولی ہونے کی وجہ سے یا رشتہ داری کی وجہ سے (جھوٹی گواہی دے رہا ہے) تو اس کا خیال رکھنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باطن کی چیزوں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے لیکن ثبوت کی بنیاد پر تم پر سزا کو تم سے دور کیا جائے گا۔ اور ہاں لوگوں کو پریشان کرنے اور انہیں ستانے سے گریز کرنا اور ایسی جگہ کے بارے میں حق کے حوالے سے مخاصمت سے گریز کرنا، اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اجر کو واجب کر دے گا، یہ چیز تمہارے لیے ذخیرہ آخرت بن جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان معاملے میں جس شخص کی نیت ٹھیک ہو گی، اگرچہ وہ چیز انسان کے اپنے خلاف کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس شخص کو لوگوں کے حوالے سے ضرر پہنچنے سے محفوظ رکھے گا اور جو لوگوں کے بارے میں آراستہ ہو گا، لیکن اللہ تعالیٰ کا اس کے بارے میں علم مختلف ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر دے گا۔ تو تم نے اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی دوسرے سے اجر کیوں حاصل کرنا ہے؟ جبکہ اللہ تعالیٰ فوری رزق بھی عطا فرماتا ہے اور اپنی رحمت کے خزانے بھی عطا فرماتا ہے اور تم پر سلام ہو۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4471]
ترقیم العلمیہ: 4391
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20888، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4471»
«‏‏‏‏قال الزیلعي: وعبد الله بن أبي حميد ضعيف، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 81)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عبيد الله بن غالب الهذلي، أبو الخطاب
Newعبيد الله بن غالب الهذلي ← عمر بن الخطاب العدوي
متروك الحديث
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← عبيد الله بن غالب الهذلي
ثقة مأمون
👤←👥عبد الله بن عبد الصمد الأسدي، أبو يحيى
Newعبد الله بن عبد الصمد الأسدي ← عيسى بن يونس السبيعي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن سليمان النعماني، أبو جعفر
Newمحمد بن سليمان النعماني ← عبد الله بن عبد الصمد الأسدي
ثقة