🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. كتاب عمر رضى الله عنه إلى أبى موسى الأشعري
باب: حضرت عمر (رض) کا حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کے نام مکتوب
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4392 ترقیم الرسالہ : -- 4472
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، نَا إِدْرِيسُ الأَوْدِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، وَأَخْرَجَ الْكِتَابَ، فَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ ، ثُمَّ قُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ" مِنْ هَاهُنَا إِلَى أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْقَضَاءَ فَرِيضَةٌ مُحْكَمَةٌ وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ، فَافْهَمْ إِذَا أُدْلِيَ إِلَيْكَ فَإِنَّهُ لا يَنْفَعُ تَكَلُّمٌ بِحَقٍّ لا نَفَاذَ لَهُ، آسِ بَيْنَ النَّاسِ فِي مَجْلِسِكَ، وَوَجْهِكَ وَعَدْلِكَ، حَتَّى لا يَطْمَعَ شَرِيفٌ فِي حَيْفِكَ، وَلا يَخَافَ ضَعِيفٌ جَوْرَكَ، الْبَيِّنَةُ عَلَى مَنِ ادَّعَى وَالْيَمِينُ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ، الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلا صُلْحًا أَحَلَّ حَرَامًا أَوْ حَرَّمَ حَلالا، لا يَمْنَعْكَ قَضَاءٌ قَضَيْتَهُ بِالأَمْسِ رَاجَعْتَ فِيهِ نَفْسَكَ وَهُدِيتَ فِيهِ لِرُشْدِكَ أَنْ تُرَاجِعَ الْحَقَّ، فَإِنَّ الْحَقَّ قَدِيمٌ، وَإِنَّ الْحَقَّ لا يُبْطِلُهُ شَيْءٌ وَمُرَاجَعَةَ الْحَقِّ خَيْرٌ مِنَ التَّمَادِي فِي الْبَاطِلِ، الْفَهْمَ الْفَهْمَ فِيمَا يَخْتَلِجُ عِنْدَ ذَلِكَ فَاعْمَدْ إِلَى أَحَبِّهَا إِلَى اللَّهِ وَأَشْبَهِهَا بِالْحَقِّ فِيمَا تَرَى وَاجْعَلْ لِلْمُدَّعِي أَمَدًا يَنْتَهِي إِلَيْهِ فَإِنْ أَحْضَرَ بَيِّنَةً وَإِلا وَجَّهْتَ عَلَيْهِ الْقَضَاءَ، فَإِنَّ ذَلِكَ أَجْلَى لِلْعَمَى، وَأَبْلَغُ فِي الْعُذْرِ، الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَيْنَهُمْ بَعْضُهُمْ، عَلَى بَعْضٍ، إِلا مَجْلُودًا فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبًا فِي شَهَادَةِ زُورٍ، أَوْ ظَنِينًا فِي وَلاءٍ، أَوْ قَرَابَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ تَوَلَّى مِنْكُمُ السَّرَائِرَ وَدَرَأَ عَنْكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ، ثُمَّ إِيَّاكَ وَالضَّجَرَ، وَالْقَلَقَ، وَالتَّأَذِّيَ بِالنَّاسِ، وَالتَّنَكُّرَ لِلْخُصُومِ فِي مَوَاطِنَ الْحَقِّ الَّتِي يُوجِبُ اللَّهُ بِهَا الأَجْرَ وَيُحْسِنُ بِهَا الذِّكْرَ، فَإِنَّهُ مَنْ يُخْلِصُ نِيَّتَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ، يَكْفِهِ اللَّهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، وَمَنْ تَزَيَّنَ لِلنَّاسِ بِمَا يَعْلَمُ اللَّهُ ذَلِكَ شَانَهُ اللَّهُ" .
سعید بن ابوبردہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط نکالا اور بولے: یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط ہے، پھر سفیان نامی راوی نے اس خط کو میرے سامنے پڑھا جس میں یہ تحریر تھا: (امابعد!) قضا ایک ایسا فرض ہے جو ضروری ہے اور ایک ایسا طریقہ ہے، جسے برقرار رہنا چاہیے۔ تم یہ بات سمجھ لو کہ جب تمہارے سامنے کوئی مقدمہ آئے، تو اسے حق کے بارے میں کلام کرنا فائدہ نہیں دیتا، جس حق کا نفاذ نہ ہو سکے۔ تم لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے ان کی طرف رخ کرتے ہوئے ان سے انصاف کے ساتھ کام لیتے ہوئے اس چیز کا خیال رکھو کہ کوئی صاحب حیثیت شخص تم سے کسی زیادتی کی امید نہ رکھے اور کسی کمزور شخص کو تم سے کسی ظلم کا اندیشہ نہ ہو۔ جو شخص دعویٰ کرتا ہے اس پر ثبوت پیش کرنا لازم ہے اور جو شخص انکار کر دیتا ہے وہ قسم اٹھائے گا۔ مسلمانوں کے درمیان صلح کروا دینا جائز ہے، ماسوائے ایسی صلح کے جو کسی حرام چیز کو حلال قرار دے یا جو کسی حلال چیز کو حرام قرار دے۔ گزشتہ دن تم نے جو فیصلہ کیا تھا وہ فیصلہ تمہیں روکے نہیں، جبکہ تم نے اس کے بارے میں غور و فکر کیا ہو، پھر تمہاری درست چیز کی طرف رہنمائی کر دی گئی ہو، وہ تمہیں اس بات سے نہ روکے کہ تم حق کی طرف رجوع کر لو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حق قدیم ہے اور حق کو کوئی بھی چیز باطل نہیں کر سکتی اور حق کی طرف لوٹ جانا، اس سے زیادہ بہتر ہے کہ انسان باطل پر گامزن رہے۔ جو معاملہ تمہارے ذہن میں کھٹک پیدا کرے، اس کو سمجھنے کی کوشش کرنا، اس چیز کے حوالے سے جو قرآن اور سنت کے حوالے سے تم تک نہیں پہنچی ہے، اس صورت میں تم اس جیسی دوسری مشابہہ اور ہم مثل صورت کا اندازہ لگانا پھر معاملات کو قیاس کرنا اور اس میں سے جو صورت حال اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو اور حق کے زیادہ قریب ہو، اس کا ارادہ کر لینا جو تمہاری سمجھ میں آئے۔ تم دعویٰ کرنے والے شخص کو مہلت دینا کہ اس دوران وہ اپنا ثبوت پیش کر دے، اگر کر دیا، تو ٹھیک ہے، ورنہ اس کے خلاف فیصلہ کر دینا کیونکہ اب یہ صورت حال نابینا شخص کے لیے بھی روزن ہو جائے گی اور عذر کے حوالے سے زیادہ بلیغ ہو گی۔ سب مسلمان عادل ہیں، ایک دوسرے سے متعلق ہیں البتہ جس شخص کو حد کی سزا کے طور پر کوڑے لگائے گئے ہوں یا جس شخص کے بارے میں تجربہ یہ ہو کہ وہ جھوٹی گواہی دیتا ہے، تو اس کا خیال رکھنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باطن کی چیزوں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے، لیکن ثبوت کی بنیاد پر تم سے سزا کو دور کیا جائے گا اور ہاں لوگوں کو پریشان کرنے، ان کو ستانے سے گریز کرنا اور ایسی جگہ سے حق کے بارے میں مخالفت سے گریز کرنا، اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اجر کو واجب کر دے گا، یہ چیز تمہارے لیے ذخیرہ آخرت بن جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان جس کی نیت ٹھیک ہو گی اگرچہ وہ چیز اس کے اپنے خلاف کیوں نہ ہو، اللہ تعالیٰ اس پر لوگوں کے حوالے سے ضرر پہنچانے سے محفوظ رکھے گا اور جو لوگوں کے بارے میں آراستہ ہو گا لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کا علم مختلف ہو گا، اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کر دے گا۔ تو تم نے اللہ تعالیٰ کے بجائے کسی دوسرے سے اجر کیوں حاصل کرنا ہے جس شخص کی اللہ تعالیٰ کے معاملے میں نیت ٹھیک ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اسے ہر معاملے میں محفوظ کر لیتا ہے، اور جو شخص لوگوں کے بارے میں اچھا بنتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسا نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ اس شخص کو رسوا کرتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك/حدیث: 4472]
ترقیم العلمیہ: 4392
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11472، 20342، 20406، 20431، 20523، 20638، 20788، 21267، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4472»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥سعيد بن أبي بردة الأشعري
Newسعيد بن أبي بردة الأشعري ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← سعيد بن أبي بردة الأشعري
ثقة حافظ حجة
👤←👥عبد الله بن أحمد الشيباني، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن أحمد الشيباني ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة حجة
👤←👥محمد بن مخلد الدوري، أبو عبد الله
Newمحمد بن مخلد الدوري ← عبد الله بن أحمد الشيباني
ثقة حافظ