سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
51. باب نجاسة البول والأمر بالتنزه منه والحكم فى بول ما يؤكل لحمه
باب: پیشاب کا ناپاک ہونا اور اس سے بچنے کا حکم اور جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے، ان کے پیشاب کا حکم
ترقیم العلمیہ : 451 ترقیم الرسالہ : -- 458
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَوْكَرِ بْنِ رَافِعٍ الطُّوسِيُّ ، نا أَبُو إِسْحَاقَ الضَّرِيرُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا ، نا ثَابِتُ بْنُ حَمَّادٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى بِئْرٍ أَدْلُو مَاءً فِي رَكْوَةٍ لِي، فَقَالَ:" يَا عَمَّارُ مَا تَصْنَعُ؟"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي، أَغْسِلُ ثَوْبِي مِنْ نُخَامَةٍ أَصَابَتْهُ، فَقَالَ:" يَا عَمَّارُ إِنَّمَا يُغْسَلُ الثَّوْبُ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَالْقَيْءِ وَالدَّمِ وَالْمَنِيِّ، يَا عَمَّارُ، مَا نُخَامَتُكَ وَدُمُوعُ عَيْنَيْكَ وَالْمَاءُ الَّذِي فِي رَكْوَتِكَ إِلا سَوَاءٌ" . لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ ثَابِتِ بْنِ حَمَّادٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَإِبْرَاهِيمُ، وَثَابِتٌ ضَعِيفَانِ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، میں اس وقت ایک کنویں کے کنارے ایک ڈول سے پانی نکال رہا تھا، آپ نے فرمایا: ”اے عمار! کیا کر رہے ہو؟“ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! میں اپنے کپڑے پر لگی ہوئی بلغم کو دھونا چاہ رہا ہوں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عمار! کپڑے کو پانچ وجہ سے دھویا جاتا ہے: پاخانہ لگا ہو، پیشاب لگا ہو، قے لگی ہو، خون لگا ہو یا منی لگی ہو۔ اے عمار! تمہاری بلغم، تمہارے آنسو اور تمہاری چھاگل میں موجود پانی ایک جیسی حیثیت رکھتے ہیں۔“ اس روایت کو صرف ثابت بن حماد نے نقل کیا ہے اور یہ بہت زیادہ ضعیف ہے۔ اس روایت کے دو راوی ابراہیم اور ثابت دونوں ضعیف ہیں۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 458]
ترقیم العلمیہ: 451
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 458، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 1611، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 22، وأخرجه البزار فى ((مسنده)) برقم: 1397، وأخرجه الطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 5963»
«قال الدارقطني: لم يروه غير ثابت بن حماد وهو ضعيف جدا، سنن الدارقطني: (1 / 230) برقم: (458)»
«قال الدارقطني: لم يروه غير ثابت بن حماد وهو ضعيف جدا، سنن الدارقطني: (1 / 230) برقم: (458)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدا
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 458 in Urdu
سعيد بن المسيب القرشي ← عمار بن ياسر العنسي