Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب افتراض الزكاة والحث عليها والتشديد فى منعها
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3375
عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَأَنَا أُرِيدُ الْعَطَاءَ مِنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَلَسْتُ إِلَى حَلْقَةٍ مِنْ حَلَقِ قُرَيْشٍ فَجَاءَ رَجُلٌ عَلَيْهِ أَسْمَالٌ لَهُ قَدْ لَفَّ ثَوْبًا عَلَى رَأْسِهِ قَالَ: بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ بِكَيٍّ فِي الْجِبَاهِ وَبِكَيٍّ فِي الظُّهُورِ وَبِكَيٍّ فِي الْجُنُوبِ، ثُمَّ تَنَحَّى إِلَى سَارِيَةٍ فَصَلَّى خَلْفَهَا رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: هَذَا أَبُو ذَرٍّ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ)، فَقُلْتُ: مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تُنَادِي بِهِ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا شَيْئًا سَمِعُوهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، إِنِّي كُنْتُ آخُذُ الْعَطَاءَ مِنْ عُمَرَ فَمَا تَرَى؟ قَالَ: خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً وَيُوشِكُ أَنْ يَكُونَ دَيْنًا، فَإِذَا كَانَ دَيْنًا فَارْفُضْهُ (وَفِي لَفْظٍ) فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ
احنف بن قیس کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا، میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے عطیہ لینا چاہتا تھا۔ میں قریش کے ایک حلقہ میں جا بیٹھا، پراگندہ لباس والا ایک آدمی وہاں آیا، اس نے سر پر ایک کپڑا لپیٹا ہوا تھا، وہ یوں کہنے لگا: خزانے جمع کرنے والوں کو یہ بشارت دے دو کہ ان کی پیشانی، پشت اور پہلو آگ سے داغے جائیں گے۔ پھر وہ علیحدہ ہوا اور ایک ستون کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ بتایا گیا: یہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ پس میں ان کے پاس گیا اور کہا: یہ جو کچھ تم کہہ رہے تھے، اس کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا: جی میں نے تو صرف وہ بات کی ہے جو ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی۔ میں نے کہا: اللہ تم پر رحمت کرے، میں سیدناعمر رضی اللہ عنہ سے عطیہ لیا کرتا تھا، اس کے بارے میں تمہاراکیا خیال ہے؟ انھوں نے کہا: لے لیا کرو، آج کل تو اس کی شکل تعاون کی ہے، لیکن قریب ہے کہ یہ قرضہ بن جائے گا، جب یہ صورت پیدا ہو جائے تو ترک کر دینا۔ (ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں:) جب ایسا مال تمہارے دین کی قیمت بن جائے تو اسے ترک کر دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3375]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 992، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21817»
وضاحت: فوائد: مرفوع حدیث کا مفہوم تو پہلے بھی گزر چکا ہے، حدیث کے آخر میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے جس صورت سے منع کیا، وہ اب شادی اور خوشی کے دوسرے موقعوں پر بدرجۂ اتم پیدا ہو چکی ہے، اگر ایک آدمی کسی کی شادی، بچے کی پیدائش، منگنی، امتحان میں کامیابی، گھر کی تعمیر اور حج وعمرہ کی ادائیگی کے موقعوں پر اگر کسی کو نقدی اور کسی اور چیز کی صورت میں تحفہ دے رہا ہے تو اسے آئندہ اس سے بہتر یا اس جیسے تحفے کی امید بھی ہوتی ہے اور لینے والا بھی اسی نیت سے ریکارڈ تیار کر رہا ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ بڑے لوگوں نے محبت اور تعاون کے لیے ان چیزوں کی بنیاد رکھی ہو، لیکن اب ان کا نتیجہ نفرت اور پریشانی کے علاوہ کچھ نہیں رہا، بندۂ غریب نے خود اچھے بھلے سنجیدہ اور مذہبی لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم نے ان کے بیٹے کی شادی کے موقع پر پانچ سو نیوندرا دیا تھا، لیکن انھوں نے تو سو روپے پر ٹرکا دیا ہے۔ اللہ کی قسم ہے کہ آج اچھی خاصی آمدنی والے شادی کی دعوت ملنے پر پریشان ہو جاتے ہیں کہ انہیں دولہا کو ہار بھی ڈالنا پڑے گا، نیوندرا بھی دینا پڑے گا، دلہن کو دیکھنے کا کرایہ بھی ادا کرنا پڑے گا، علی ہذا القیاس۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جب لین دین کی بنیاد یہ چیز بن جائے تو اس وقت عطیوں کا سلسلہ بند کر دینا چاہیے، بڑی حکمت و دانائی والے تھے وہ لوگ، جو کہ حقیقی محبّتوں کے علم بردار تھے۔

الحكم على الحديث: صحیح