الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب افتراض الزكاة والحث عليها والتشديد فى منعها
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
حدیث نمبر: 3376
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: ((هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ! هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ!))، فَأَخَذَنِي غَمٌّ وَجَعَلْتُ أَتَنَفَّسُ، قَالَ: قُلْتُ: هَذَا شَيْءٌ حَدَثَ فِيَّ! قَالَ: قُلْتُ: مَنْ هُمْ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قَالَ: ((الْأَكْثَرُونَ، إِلَّا مَنْ قَالَ فِي عِبَادِ اللَّهِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ، مَا مِنْ رَجُلٍ يَمُوتُ فَيَتْرُكُ غَنَمًا أَوْ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ، إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا تَكُونُ وَأَسْمَنَ حَتَّى تَطَؤَهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحَهُ بِقُرُونِهَا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ، ثُمَّ تَعُودُ أُوْلَاهَا عَلَى أُخْرَاهَا))، وَفِي رِوَايَةٍ: ((كُلَّمَا نَفَدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُوْلَاهَا))
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے: ربِّ کعبہ کی قسم! وہی بہت زیادہ خسارے والے ہیں، ربِّ کعبہ کی قسم! وہی خسارے میں ہیں۔ مجھے شدید غم نے دبوچ لیا اور اور میں ٹھنڈی آہیں بھرنے لگا، (میں دل میں ہی کہنے لگا کہ) کیا میرے اندر کوئی خرابی آگئی ہے، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کچھ فرما رہے ہیں، اس لیے میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، کون لوگ خسارے میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیادہ مال والے، ماسوائے ان لوگوں کے جو (صدقہ کرتے ہوئے) مال کو اِدھر اُدھر لٹا دیتے ہیں، لیکن ایسے لوگ تھوڑے ہیں، جو شخص بکریاں، اونٹ اور گائے وغیرہ اس حالت میں چھوڑ کر مرتا ہے کہ وہ ان کی زکوۃ ادا نہ کرتا ہو تو قیامت کے دن یہ جانور خوب موٹے تازے ہو کر آئیں گے اور اپنے مالک کو اپنے پاؤں، کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے اس کو ماریں گے، یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ ہو جائے گا، آخری جانور کے گزرنے کے بعد پھر پہلے کو دوبارہ لایا جائے گا۔ ایک روایت میں ہے: جب آخری جانور گزر جائے گا تو پہلے کو لوٹا لیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3376]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 990، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21678»
وضاحت: فوائد: مال کو ادھر ادھر لٹانے سے مراد کثرت سے صدقہ و خیرات کرنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ زیادہ مال والے خسارے میں ہیں، اس فرمانِ عالی شان کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ اور غرباء و فقراء کی فضیلت پر مشتمل احادیث ِ مبارکہ اور صحابۂ کرام اور سلف صالحین کی سوانح عمریوں کا مطالعہ کرناضروری ہے، بہرحال سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے عام طور پر ان حقائق کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح