الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ الْكَفْ عَنْ قَصْدِ النِّسَاءِ وَالصَّبْيَانِ وارهْبَانِ وَالشَّيْخ القَانِي بِالْقَتْلِ
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
حدیث نمبر: 5000
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ وَاسْتَحْيُوا شَرْخَهُمْ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَأَلْتُ أَبِي عَنْ تَفْسِيرِ هَذَا الْحَدِيثِ اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ قَالَ يَقُولُ الشَّيْخُ لَا يَكَادُ أَنْ يُسْلِمَ وَالشَّابُّ أَيْ يُسْلِمُ كَأَنَّهُ أَقْرَبُ إِلَى الْإِسْلَامِ مِنَ الشَّيْخِ قَالَ الشَّرْخُ الشَّبَابُ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مشرکوں کے بہادری اور جنگ والے قوی افراد کو قتل کرو اور نابالغ بچوں کو چھوڑ دو۔ عبد اللہ رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ امام احمد رحمہ اللہ سے اس کی حدیث اُقْتُلُوا شُیُوخَ الْمُشْرِکِینَ کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: شیخ کا مسئلہ یہ ہے کہ قریب نہیں ہوتا ہے کہ وہ مسلمان ہو جائے، جبکہ لڑکا، شیخ کی بہ نسبت اسلام قبول کرنے کے قریب ہوتا ہے۔ اَلشَّرْح سے مراد لڑکے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5000]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابوداود: 2670، والترمذي: 1583، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20407»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں شُیُوْخ سے مراد وہ لوگ ہیں، جن کی عمر چالیس برس ہوچکی ہو، یعنی مضبوط جنگ جو مرد، ان سے مراد وہ عمر رسیدہ بوڑھے نہیں ہیں، جن میں قوت اور رائے کی صلاحت ختم ہو جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
1 .....
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5000 in Urdu