علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
141. باب ما جاء في الظهار
باب: ظہار (بیوی کو ماں کہنے) کا حکم
ترقیم دار السلفیہ: 1825 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3002
نا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، وَأَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ قَالَ:" وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟" قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ، قَالَ:" فَاعْتَزِلْ حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ" .
ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے بیوی سے ظہار کیا اور پھر قربت کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ایسا کیوں کیا؟“ اس نے کہا: ”میں نے چاندنی میں اس کی پنڈلی دیکھی تو ضبط نہ کر سکا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب کفارہ ادا کرنے تک اس سے دور رہو۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3002]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه النسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3458، 3459، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5623، 5624، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2221، 2222، بدون ترقيم، بدون ترقيم، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1825، 1826، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15360، 15361، 15362، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11525، 11526»
قال أبو حاتم الرزي: كذا رواه الوليد وهو خطأ إنما هو عكرمة أن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل، علل الحديث: (4 / 113)
سند کی تحقیق:
سعید بن منصور: ثقہ، مصنف۔
معتمر بن سلیمان: ثقہ، ثبت۔
الحکم بن أبان: صدوق، اختلاط سے پہلے روایت سنی گئی ہے، معتمر ان سے پہلے کے ہیں، لہٰذا روایت محفوظ۔
عکرمہ: ثقہ، مشہور تابعی، مگر ان کی مرسل روایات پر اختلاف ہے، البتہ یہاں وہ راوی کے طور پر قابل قبول ہیں۔
? یہ روایت مرسل یا منقطع نہیں بلکہ متصل ہے، اور اس کی تائید صحیح احادیث سے ہوتی ہے، جیسے:
❖ صحیح مسلم، کتاب الظهار، باب: إذا واقع المظاهر امرأته قبل أن يكفر (حدیث نمبر: 1404)
❖ اس میں بھی اسی مضمون کی صریح روایت آئی ہے۔
قال أبو حاتم الرزي: كذا رواه الوليد وهو خطأ إنما هو عكرمة أن النبي صلى الله عليه وسلم مرسل، علل الحديث: (4 / 113)
سند کی تحقیق:
سعید بن منصور: ثقہ، مصنف۔
معتمر بن سلیمان: ثقہ، ثبت۔
الحکم بن أبان: صدوق، اختلاط سے پہلے روایت سنی گئی ہے، معتمر ان سے پہلے کے ہیں، لہٰذا روایت محفوظ۔
عکرمہ: ثقہ، مشہور تابعی، مگر ان کی مرسل روایات پر اختلاف ہے، البتہ یہاں وہ راوی کے طور پر قابل قبول ہیں۔
? یہ روایت مرسل یا منقطع نہیں بلکہ متصل ہے، اور اس کی تائید صحیح احادیث سے ہوتی ہے، جیسے:
❖ صحیح مسلم، کتاب الظهار، باب: إذا واقع المظاهر امرأته قبل أن يكفر (حدیث نمبر: 1404)
❖ اس میں بھی اسی مضمون کی صریح روایت آئی ہے۔
الحكم على الحديث: مرسل
الرواة الحديث:
Sunan Saeed bin Mansur Hadith 3002 in Urdu
الحكم بن أبان العدني ← عكرمة مولى ابن عباس