سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
174. بَابُ جَامِعِ الطَّلَاقِ
طلاق کے جامع مسائل
ترقیم دار السلفیہ: 2265 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3442
نا نا هُشَيْمٌ، أنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، نا مَسْرُوقٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَاتَ يَوْمٍ وَدَارُهُ مُمْتَلِئَةٌ مِنَ النَّاسِ، فَقَالَ:" مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ يَسْأَلُ عَنْ فَرِيضَةٍ أَوْ أَمْرٍ نَزَلَ بِهِ مِنْ حُكُومَةٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ فَلْيَتَنَحَّ، وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ جَاءَ لِيُطْلِعَنَا عَلَى أَمْرٍ قَدْ أَسَرَّهُ فَلْيُسِرَّ التَّوْبَةَ كَمَا أَسَرَّ الْخَطِيئَةَ ؛ فَإِنَّهُ لا نَمْلِكُ إِلا اللِّعَانَ"، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتَهُ وَإِنَّهَا مُشْتَبِكَةُ النَّسَبِ فِي الْحَيِّ، وَإِنَّهَا كَانَتْ تَسْتَأْذِنُنِي فِي الزِّيَارَةِ إِمَّا يَوْمَ يَحُجُّونَ، وَإِمَّا مَأْتَمٌ يَكُونُ فِيهِمْ أَوْ نَحْو ذَلِكَ، فَاسْتَأْذَنَتْنِي ذَاتَ يَوْمٍ، فَأَذِنْتُ لَهَا، فَلَمَّا خَلا لِيَ الْبَيْتُ وَقَعْتُ عَلَى جَارِيَتِهَا، فَحَمَلَتْ، فَلَمَّا اسْتَبَانَ الْحَمْلُ قَالَتْ لِيَ امْرَأَتِي: إِنَّكَ ابْنُ عَمِّي، وَأَنَا أَكْرَهُ فَضِيحَتَكَ فَأْتِ بِقَوْمٍ مِنَ الْحَيِّ وَأَشْهِدْهُمْ أَنِّي قَدْ وَهَبْتُهَا لَكَ، قَالَ: فَفَعَلْتُ، فَمَا التَّوْبَةُ مِمَّا صَنَعْتُ؟ وَمَا ثَوَابُهَا عَلَى مَا فَعَلَتْ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ:" اسْتَتِرْ بِسِتْرِ اللَّهِ، وَتُبْ إِلَى اللَّهِ، وَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَشْتَرِيَهَا، فَتُعْتِقَهَا، لَعَلَّ ذَلِكَ يُكَفِّرُ عَنْكَ مَا كَانَ مِنْكَ، وَأَمَّا ثَوَابُهَا فَأَعْطِهَا مِثْلَهَا" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو توبہ کرے وہ گناہ کو چھپائے، اور جب ایک شخص نے اپنی بیوی کی باندی سے زنا کا معاملہ بیان کیا تو فرمایا: توبہ کر اور اسے خرید کر آزاد کر، اور بیوی کو اس نیکی کا بدلہ دے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3442]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2265، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29138»
وضاحت: ضعف کا سبب: مجالد بن سعید — جو ضعیف الحفظ ہے، مگر قصہ موافق للفقه والعقل ہے، اور مؤید بالآثار بھی ہے۔
فقہی نکات: بیوی کی باندی سے وطی: اگر بغیر اجازت ہو تو حرام ہے، زنا نہیں۔ یہاں بیوی نے گواہ لا کر باندی شوہر کو ہبہ کی، تاکہ وہ ملک یمین میں آ جائے۔
توبہ کی تلقین: ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حد قائم نہیں کی۔ ستاریت (پردہ پوشی) کو برقرار رکھا، اور توبہ و اصلاح کا حکم دیا۔
باندی کو آزاد کرنا: گناہ کا کفارہ ہو سکتا ہے۔
بیوی کی نیکی کا بدلہ: اخلاقی اور ایمانی تعلیم: جس نے تمہیں رسوائی سے بچایا، اس کے ساتھ احسان کرو۔
فقہی نکات: بیوی کی باندی سے وطی: اگر بغیر اجازت ہو تو حرام ہے، زنا نہیں۔ یہاں بیوی نے گواہ لا کر باندی شوہر کو ہبہ کی، تاکہ وہ ملک یمین میں آ جائے۔
توبہ کی تلقین: ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حد قائم نہیں کی۔ ستاریت (پردہ پوشی) کو برقرار رکھا، اور توبہ و اصلاح کا حکم دیا۔
باندی کو آزاد کرنا: گناہ کا کفارہ ہو سکتا ہے۔
بیوی کی نیکی کا بدلہ: اخلاقی اور ایمانی تعلیم: جس نے تمہیں رسوائی سے بچایا، اس کے ساتھ احسان کرو۔
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي |
Sunan Saeed bin Mansur Hadith 3442 in Urdu