سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
178. باب من خرج من بيته لا يخرجه إلا الجهاد
باب: گھر سے صرف جہاد کے لیے نکلنے کا حکم
ترقیم دار السلفیہ: 2313 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3490
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلانِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ: " مَا غَزَتْ غَازِيَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَصَابَتْ غَنِيمَةً إِلا عُجِّلَ لَهَا ثُلُثَا أَجْرِهَا مِنْ آخِرَتِهَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ غَنِيمَةٌ تَمَّ الأَجْرُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جو لشکر اللہ کی راہ میں غزوہ کرتا اور غنیمت حاصل کرتا ہے، اس کا دو تہائی اجر دنیا ہی میں دیا جاتا ہے، اور اگر غنیمت نہ ہو تو پورا اجر ملتا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3490]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1906، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2427، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3125، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4318، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2497، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2785، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2313، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18624، 18625، وأحمد فى «مسنده» برقم: 6688، والطبراني فى «الكبير» برقم: 14661، 14662»
قال ابن حجر: حكاه عياض وذكر أن بعضهم أجاب عنه بأنه ضعف لأنه من رواية حميد بن هانئ وليس بمشهور وهذا مردود لأنه ثقة يحتج به عند مسلم وقد وثقه النسائي وابن يونس وغيرهما ولا يعرف فيه تجريح لأحد، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (6 / 10)
قال ابن حجر: حكاه عياض وذكر أن بعضهم أجاب عنه بأنه ضعف لأنه من رواية حميد بن هانئ وليس بمشهور وهذا مردود لأنه ثقة يحتج به عند مسلم وقد وثقه النسائي وابن يونس وغيرهما ولا يعرف فيه تجريح لأحد، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (6 / 10)
وضاحت: حافظ ابن حجر اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں: قاضی عیاض نے نقل کیا کہ بعض نے یہ اعتراض کیا ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ یہ حمید بن ہانئ کی روایت ہے اور وہ مشہور نہیں۔
لیکن امام ابن حجر فرماتے ہیں:
"یہ بات رد کی جاتی ہے، کیونکہ وہ ثقہ ہیں، امام مسلم نے ان سے حجت پکڑی ہے، امام نسائی، ابن یونس اور دیگر نے ان کی توثیق کی ہے، اور کسی نے بھی ان پر جرح نقل نہیں کی۔"
لیکن امام ابن حجر فرماتے ہیں:
"یہ بات رد کی جاتی ہے، کیونکہ وہ ثقہ ہیں، امام مسلم نے ان سے حجت پکڑی ہے، امام نسائی، ابن یونس اور دیگر نے ان کی توثیق کی ہے، اور کسی نے بھی ان پر جرح نقل نہیں کی۔"
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي