سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
185. باب ما جاء في فضل الجهاد، وإن الحج جهاد كل ضعيف
باب: جہاد کی فضیلت کا بیان، اور یہ کہ حج ہر کمزور کا جہاد ہے۔
ترقیم دار السلفیہ: 2341 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3518
نا أَبُو الأَحْوَصِ ، قَالَ: نا مُعَاوِيَةُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، قَالَتْ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سبيلِ اللَّهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ" .
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ”کون سا عمل افضل ہے؟“ فرمایا: ”اللہ پر ایمان، اللہ کی راہ میں جہاد، اور حج مبرور۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3518]
تخریج الحدیث: «مرسل، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: سند میں کوئی راوی مجروح یا متروک نہیں ہے، راویوں کا مجموعی معیار "حسن" درجے کی روایت کے لیے کافی ہے۔ لہٰذا: یہ روایت سندًا حسن ہے۔ اور چونکہ یہ مضمون صحیحین (بخاری و مسلم) میں متعدد صحیح اسناد سے بھی آیا ہے (جیسے: روایت سیدہ عائشہ، ابن عباس، ابو ذر، ابوہریرہ وغیرہ سے)، اس لیے یہ حدیث شواہد و متابعات کی بنا پر "صحیح" درجہ رکھتی ہے۔
الحكم على الحديث: مرسل
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت طلحة القرشية، أم عمران | ثقة | |
👤←👥معاوية بن إسحاق التيمي، أبو الأزهر معاوية بن إسحاق التيمي ← عائشة بنت طلحة القرشية | ثقة | |
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص سلام بن سليم الحنفي ← معاوية بن إسحاق التيمي | ثقة متقن |
معاوية بن إسحاق التيمي ← عائشة بنت طلحة القرشية