🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
163. قوله تعالى: {ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم خالدا فيها وغضب الله عليه ولعنه وأعد له عذابا عظيما} .
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 670 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 670
نا نا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الأَبَحُّ , قَالَ: نا سَعِيدُ بْنُ مِينَا , قَالَ: كَانَ بَيْنَ صَاحِبٍ لِي وَرَجُلٍ من أهل السوق بمكة لحاء، فأخذ صاحبي كرسيا، فضرب به رأس الرجل، فقتله، وندم، وَقَالَ: إِنِّي سَأَخْرُجُ مِنْ مَالِي، ثُمَّ أَنْطَلِقُ فَأَجْعَلُ نَفْسِي حَبِيسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: قُلْتُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ نَسَلْهُ هَلْ لَكَ مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ , قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ عَلَى مَا كَانَتْ قَالَ: قُلْتُ: هَلْ تَرَى لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ:" كُلْ وَاشْرَبْ، أُفٍّ، قُمْ عَنِّي"، إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ قَتْلَهُ , قَالَ:" كَذَبَ، يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى الْخَشَبَةِ، فَيَضْرِبُ بِهَا رَأْسَ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، ثُمَّ يَقُولُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ قَتْلَهُ، كَذَبَ، كُلْ وَاشْرَبْ مَا اسْتَطَعْتَ، أُفٍّ، قُمْ عَنِّي"، فَلَمْ يَزِدْنَا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قُمْنَا .
سعید بن مینا رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے ایک ساتھی اور مکہ کے بازار کے ایک شخص کے درمیان جھگڑا ہوا، تو میرے ساتھی نے ایک کرسی اٹھا کر اس شخص کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا، پھر وہ نادم ہوا اور کہنے لگا: میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں گا اور اللہ کے راستے میں خود کو قید کر دوں گا، میں نے کہا: آؤ ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس چلتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارے لیے توبہ ہے؟ چنانچہ ہم مکہ میں ان کے پاس پہنچے، میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اور پھر پوری تفصیل بیان کی، اور پوچھا: کیا آپ اس کے لیے توبہ کی کوئی صورت دیکھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کھاؤ پیو، اُف، میرے سامنے سے اٹھ جاؤ! وہ کہتا ہے کہ اس نے قتل کا ارادہ نہیں کیا؟ جھوٹ بولتا ہے! تم میں سے کوئی لکڑی سے کسی مسلمان کے سر پر مارتا ہے، پھر کہتا ہے: میرا قتل کا ارادہ نہیں تھا؟ جھوٹ بولتا ہے! کھاؤ پیو جتنا کھا سکتے ہو، اُف، میرے سامنے سے اٹھ جاؤ! اس کے بعد انہوں نے ہمیں کچھ نہ کہا، حتیٰ کہ ہم وہاں سے اٹھ گئے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 670]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف كسابقه.

Sunan Saeed bin Mansur Hadith 670 in Urdu