صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
16. باب فضل الوضوء - ذكر البيان بأن الشيطان قد يعقد على مواضع الوضوء من المسلم عقدا كعقده على قافية رأسه عند النوم
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ شیطان مسلمان کے وضو کے مقامات پر گرہ لگا سکتا ہے جیسے وہ سوتے وقت اس کے سر کے پچھلے حصے پر گرہ لگاتا ہے
حدیث نمبر: 1052
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ: لا أَقُولُ الْيَوْمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ. سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا مِنْ جَهَنَّمَ" . وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " رَجُلٌ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ يُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ، وَعَلَيْكُمْ عُقَدٌ، فَإِذَا وَضَّأَ يَدَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِلَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ لَيَسْأَلَنِي، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا، فَهُوَ لَهُ، مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا، فَهُوَ لَهُ" .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے آج کوئی ایسی بات بیان نہیں کر رہا جو آپ نے ارشاد نہ فرمائی ہو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے وہ جہنم میں اپنے گھر پہنچنے کے لئے تیار رہے۔“ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے یہ بات بھی بتائی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”میری اُمت کا ایک شخص رات کے وقت کھڑا ہو کر وضو کرنے کے لئے جاتا ہے تم لوگوں پر گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں، جب وہ شخص اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، تو اللہ تعالیٰ حجاب کے دوسرے طرف (موجود) فرماتا ہے: میرے اس بندے کا جائزہ لو! جو مجھ سے مانگنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کر رہا ہے۔ میرا یہ بندہ مجھ سے جو بھی مانگے وہ اسے مل جائے گا میرا یہ بندہ مجھ سے جو بھی مانگے گا وہ اسے مل جائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1052]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1049»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «التعليق الرغيب» (1/ 220).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، أبو عشانة: هو حيُّ بن يُؤْمِن روى له أصحاب السنن وهو ثقة، وباقي رجاله على شرط الشيخين.
الرواة الحديث:
حي بن يؤمن المعافري ← عقبة بن عامر الجهني