صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
63. باب نواقض الوضوء - ذكر الخبر الدال على أن هذا الخبر كان في أول الإسلام
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ خبر اسلام کے ابتدائی دور میں تھی
حدیث نمبر: 1099
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ ذَاتَ لَيْلَةٍ عَنْ صَلاةِ الْعَتَمَةِ، حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ يَنْتَظِرُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ الصَّلاةَ غَيْرُكُمْ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کے وقت کسی کام میں مصروف رہے، یہاں تک کہ ہم لوگ مسجد میں ہی سو گئے پھر ہم بیدار ہو گئے پھر ہم سو گئے پھر بیدار ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اس وقت روئے زمین میں تمہارے علاوہ کوئی شخص (اس) نماز کا انتظار نہیں کر رہا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1099]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1096»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (194): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي